تحریر و تحقیق : مسعود چوہدری
قومی اسمبلی کے ایوان میں اٹھنے والا ایک سوال جب سینیٹ میں ذاتی نوعیت کے الزامات اور سخت جملوں تک پہنچ جائے تو یہ محض تین سیاست دانوں کی نوک جھونک نہیں رہتی؛ یہ پارلیمانی تہذیب، حکومتی شفافیت اور سیاسی اختلاف کو سنبھالنے کی صلاحیت کا امتحان بن جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تہران میں ہونے والی علاقائی ملاقات میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی عدم موجودگی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت پر سوال اٹھایا۔ جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ وہاں دفاعی معاہدے پر بات نہیں ہورہی تھی، اس لیے ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ محسن نقوی نے بھی وضاحت کی کہ وہ وزیراعظم کی خصوصی ذمہ داری پر ایران گئے تھے۔ مگر وضاحت کے ساتھ جو تلخ جوابی بیانات سامنے آئے، انہوں نے اصل سفارتی سوال کو پس منظر میں دھکیل کر کشیدگی کو مرکزِ نگاہ بنا دیا۔تنازع کا آغاز قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر سے ہوا۔ انہوں نے تہران میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر وہاں دفاعی معاملات زیرِ بحث تھے تو وزیر دفاع پاکستان میں کیوں موجود تھے، جبکہ وزیر داخلہ اس دورے میں شریک تھے۔ ان کا سوال طنزیہ انداز میں سامنے آیا اور ایوان میں قہقہے سنائ اور ڈیسک بجتے دکھائی دیے۔
اگلے روز خواجہ آصف نے جواب دیا کہ تہران میں پاکستان کے دفاع یا کسی دفاعی معاہدے پر مذاکرات نہیں ہورہے تھے؛ ان کے مطابق ملاقات کا مقصد خطے میں امن اور بات چیت کو آگے بڑھانا تھا۔ محسن نقوی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایران گئے تھے تاکہ جاری بحران سے متعلق معاملات پر کام کرسکیں۔ یوں بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ملاقات کی نوعیت کیا تھی اور اس میں کس وزیر کی شرکت کس سرکاری ذمہ داری کے تحت ہوئی۔اس سوال کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ خارجہ اور سلامتی سے متعلق اہم ملاقاتیں عوامی مفاد سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر نشست دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھی تو اس کی نوعیت، مقصد اور پاکستان کی نمائندگی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ خواجہ آصف نے پارلیمان میں بتایا کہ انہیں اس ملاقات میں شرکت کی ضرورت نہیں تھی، جبکہ محسن نقوی نے اپنے دورے کو وزیراعظم کے سپرد کردہ خصوصی کام سے جوڑا۔ یہ وضاحتیں ریکارڈ پر آچکی ہیں؛ اب بہتر ہوگا کہ حکومت متعلقہ سفارتی تفصیلات بھی مناسب حد تک سامنے رکھے۔ حساس مذاکرات میں ہر بات عام نہیں کی جاسکتی، مگر بنیادی نوعیت اور حکومتی ذمہ داری کی وضاحت سے شبہات کم کیے جاسکتے ہیں۔
سوال اٹھانے والے کو بھی اپنی بات درست معلومات کی بنیاد پر رکھنی چاہیے، مگر حکومت پر جواب دہی کا بوجھ زیادہ ہے کیونکہ اختیار اور سرکاری معلومات اسی کے پاس ہیں۔خواجہ آصف کا جواب، تاہم، تہران کے اجلاس کی وضاحت تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے مولانا کے سیاسی ماضی، کشمیر کمیٹی کی سربراہی، سابقہ حکومتوں میں شمولیت اور سیاسی مراعات پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے کردار اور ماضی کو بھی دیکھنا چاہیے۔ سیاست دانوں کے ریکارڈ پر سوال اٹھانا جائز ہے، مگر یہ بات اسی وقت مؤثر رہتی ہے جب دلیل اور متعلقہ حقائق کے ساتھ ہو۔ ایک سفارتی ملاقات کے مقصد پر سوال کا جواب کسی دوسرے رہنما کے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر سے دینا اصل معاملے کو حل نہیں کرتا۔ اس سے ایوان میں سیاسی حساب کتاب تو بڑھتا ہے، مگر عوام کے سامنے پالیسی کی تصویر واضح نہیں ہوتی۔محسن نقوی نے سینیٹ میں زیادہ سخت زبان اختیار کی اورکہا کہ مولانا کے بیان کے بعد ان کے احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی اور جے یو آئی کو ریاست سے نوکریاں یا پیسے نہیں ملیں گے۔ انہوں نے پارٹی پر مذہب کو سیاست اور کاروبار کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔
یہ الزامات سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کرنے والے تھے، خصوصاً اس لیے کہ ایک وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے ریاستی وسائل یا سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے ایسی بات سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔ ریاستی ملازمتیں، فنڈز اور عوامی وسائل کسی جماعت کو انعام یا سزا دینے کے لیے نہیں ہوتے؛ ان کی تقسیم قواعد، اہلیت اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ کسی سیاسی رہنما سے اختلاف اپنی جگہ، مگر حکومتی عہدے دار کی زبان میں دھمکی کا تاثر نہیں آنا چاہیے۔یہاں ایک اہم فرق بھی واضح رکھنا چاہیے: کسی جملے پر سخت اعتراض کرنا اور ریاستی اختیار کو سیاسی جواب کے طور پر پیش کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر کسی رہنما نے ریاستی اداروں کے بارے میں نامناسب الفاظ کہے ہیں تو ان پر تنقید کی جاسکتی ہے، اور پارلیمانی قواعد کے تحت ایوان میں کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن وزیر کا یہ کہنا کہ مخالفین کو ریاست سے پیسے یا نوکریاں نہیں ملیں گی، ایسا تاثر دے سکتا ہے کہ حکومتی وسائل سیاسی وفاداری کے تابع ہیں۔ حکومت کو اسی لیے اپنے الفاظ میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ اختیار رکھنے والے شخص کی بات محض ذاتی رائے نہیں سمجھی جاتی؛ عوام اسے حکومت کی پالیسی یا ارادے کے طور پر بھی لے سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے انداز پر بھی تنقید ہوسکتی ہے۔ سیاسی اختلاف میں طنز، تضحیک یا اشتعال انگیز جملے دلیل کا متبادل نہیں بن سکتے، بالخصوص جب معاملہ علاقائی بحران، سفارت کاری اور دفاعی تعاون جیسا حساس ہو۔ یہ کہنا کہ کسی وزیر کو شرم یا حیا کرنی چاہیے، بحث کو شخصی رخ دیتا ہے اور حکومت کو اصل سوال سے ہٹ کر جواب دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اپوزیشن رہنما کا مؤثر کردار یہ ہے کہ وہ ملاقات کے ایجنڈے، پاکستان کی نمائندگی، حکومتی پالیسی اور پارلیمان کو دی گئی معلومات پر ٹھوس سوالات اٹھائے۔ حکومت کا مؤثر جواب بھی یہی ہے کہ وہ حقائق دے، نہ کہ ذاتی حملوں کی قطار لگائے۔ دونوں جانب زبان کا معیار بلند ہو تو ایوان میں عوامی مسائل کے لیے جگہ بچتی ہے۔یہ کشیدگی اس وسیع تر سیاسی مسئلے کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ہمارے ایوانوں میں اختلاف کو اکثر ذاتی دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ کبھی اتحادی، کبھی مخالف اور کبھی ایک ہی ایوان میں شریک رہتی ہیں۔ پارلیمانی سیاست کی یہی فطرت ہے؛ کل کا حریف کسی معاملے میں آج کا شراکت دار ہوسکتا ہے۔ اس لیے ذاتی کردار کشی اور ماضی کے انتخابی اتحادوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے سیاسی مکالمہ کمزور ہوتا ہے۔ اختلاف کو ختم کرنا ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں، مگر اسے اصول، پالیسی اور کارکردگی کے دائرے میں رکھنا ممکن ہے۔
پارلیمان اگر ہر سوال کا جواب مخالف کی پرانی غلطی گنوانے سے دے گی تو حکومت اور اپوزیشن دونوں احتساب سے بچ نکلیں گے۔عوام کو اصل میں یہ جاننا ہے کہ تہران کی ملاقات کس مقصد کے لیے ہوئی، پاکستان نے اس میں کیا کردار ادا کیا اور اس سے علاقائی امن کو کیا فائدہ متوقع ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے اعلیٰ حکام شریک تھے، اور شرکا نے علاقائی امن و سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ حکومت کے مطابق اجلاس دفاعی معاہدے کی تشکیل کے لیے نہیں تھا۔ ان دونوں بیانات میں تضاد لازماً نہیں، لیکن تعلق واضح کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: علاقائی سلامتی پر گفتگو ہوسکتی ہے، مگر اس کا مطلب لازماً نیا دفاعی معاہدہ نہیں ہوتا۔ عوامی اعتماد کے لیے یہی فرق سیدھے اور قابلِ فہم انداز میں بیان ہونا چاہیے۔اس تنازع کا حل یہ نہیں کہ ایک فریق دوسرے سے معافی منگوا کر سیاسی فتح کا اعلان کرے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ حکومت تہران کے دورے پر پارلیمان کو واضح بریفنگ دے، سفارتی حساسیت کے پیش نظر ضروری معلومات کی حد متعین کرے، اور اپوزیشن کو سوالات کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمن اپنے اعتراضات کو شخصی طنز سے الگ کرکے واضح نکات میں پیش کریں؛ خواجہ آصف سفارتی معاملے پر متعلقہ حقائق تک جواب محدود رکھیں؛ اور محسن نقوی حکومتی وسائل کے بارے میں ایسی زبان سے گریز کریں جو سیاسی سزا کا مفہوم دے۔ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ بھی ایوانوں میں ذاتی حملوں، دھمکی آمیز بیانات اور شور شرابے کو روکنے کے لیے قواعد غیر جانب داری سے نافذ کریں۔پاکستان کو اس وقت علاقائی سفارت کاری، معاشی دباؤ اور داخلی سیاسی اختلاف جیسے کئی مشکل معاملات کا سامنا ہے۔ ایسی صورت میں وزرا اور اپوزیشن رہنماؤں کا کام ایک دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ عوام کو پالیسی کی سمت سے آگاہ کرنا ہے۔ تہران کے دورے پر سوال اٹھانا اپوزیشن کا حق ہے؛ دورے کی وضاحت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے؛ اور دونوں جانب سے شائستہ، مستند اور قابلِ جانچ گفتگو کی توقع عوام کا حق ہے۔ اگر یہ معاملہ صرف جوابی طعنوں اور سخت بیانات پر ختم ہوا تو اصل سوال جواب طلب ہی رہے گا۔ مگر اگر پارلیمان اسے شفافیت، سفارتی وضاحت اور سیاسی مکالمے کا موقع بنائے تو موجودہ کشیدگی کم از کم کسی مفید نتیجے تک پہنچ سکتی ہے۔






