فلسطینی صدر کو اسرائیل میں نئی حکومت سے امید

0
316

عمران رشید

اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ غیر یقینی ہے۔ کسی ایک اتحاد کو ابھی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، اور آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ ایسے وقت میں فلسطینی صدر محمود عباس نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی اسرائیلی حکومت کے قیام کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان سنجیدہ سیاسی مکالمہ دوبارہ شروع ہوسکے گا۔ قبرص میں صدر نکوس کرسٹودولیدس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عباس نے کہا کہ فلسطینی قیادت امن کے لیے اپنا ہاتھ برسوں سے آگے بڑھاتی رہی ہے اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق حل چاہتی ہے۔عباس کا بیان بظاہر امید کا پیغام ہے، مگر اس امید کے پیچھے ایک پیچیدہ حقیقت موجود ہے: اسرائیل میں حکومت بن جانا اور فلسطینی مسئلے کے حل کی سمت میں پیش رفت ہونا ایک ہی بات نہیں۔

نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کو اتحاد کرنا ہوگا، وزارتوں اور پالیسیوں پر سمجھوتے ہوں گے، اور ہر جماعت اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق مطالبات پیش کرے گی۔ انتخابی مہم میں اسرائیلی ووٹرز نے جن مسائل کو اہم سمجھا، ان میں سلامتی، معیشت اور داخلی سیاست نمایاں رہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام یا مذاکرات کی بحالی کو نئی حکومت کی فوری ترجیح بنانے کے لیے نہ صرف قیادت کی آمادگی بلکہ سیاسی اکثریت اور عوامی حمایت بھی درکار ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عباس کی امید کو ایک ممکنہ دروازے کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے، کسی یقینی نتیجے کے طور پر نہیں۔اسرائیلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی واضح اکثریت سامنے نہیں آئی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی پارلیمان میں اکثریت سے کم نشستیں حاصل ہوئیں، جبکہ مخالف اتحاد اور عرب جماعتوں کی نشستیں بھی حکومت سازی میں اہم ہوسکتی ہیں۔ اس صورت حال میں نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے مذاکرات اور سیاسی سودے بازی کا مرحلہ طویل ہوسکتا ہے۔ اگر جماعتیں کسی قابلِ عمل اتحاد تک نہ پہنچ سکیں تو اسرائیل میں ایک بار پھر انتخابات یا عبوری حکومت کے تسلسل کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

فلسطینی صدر کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کا سربراہ کون بنتا ہے، مگر اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ نئی حکومت مذاکرات، قبضے، آبادکاری اور فلسطینی خودمختاری کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ محض اسرائیل کی داخلی سیاست کا معاملہ نہیں۔ حکومت سازی کے فیصلوں کا اثر غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ آبادکاری کی توسیع، نقل و حرکت پر پابندیاں، سلامتی کی کارروائیاں اور غزہ کی صورتحال ایسے امور ہیں جنہیں کسی بھی نئی حکومت کی پالیسی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ فلسطینیوں کو یہ خدشہ ہے کہ اسرائیلی انتخابی سیاست میں ان کے بنیادی حقوق اور ریاستی مستقبل کو اکثر داخلی سیاسی مفادات کے تابع کردیا جاتا ہے۔ غزہ کے رہائشیوں نے بھی انتخابات کو اس امید سے دیکھا کہ شاید نیتن یاہو کے بغیر نئی حکومت جنگ اور فضائی حملوں میں کمی لائے؛ لیکن انتخابی نتیجہ اور عملی پالیسی کے درمیان فاصلہ برقرار ہے۔ عباس کی جانب سے “سنجیدہ سیاسی مکالمے” کی بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امن عمل کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔ ماضی میں مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، لیکن ان سے حتمی سیاسی تصفیہ برآمد نہیں ہوسکا۔

اس ناکامی کی وجوہ میں دونوں جانب عدم اعتماد، تشدد، سلامتی کے خدشات، آبادکاری اور فلسطینی علاقوں کی حیثیت پر اختلاف شامل ہیں۔ مذاکرات کا اعلان کرنا آسان ہے؛ مشکل مرحلہ یہ طے کرنا ہے کہ گفتگو کن اصولوں پر ہوگی، کون سے معاملات پہلے زیرِ بحث آئیں گے اور معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت کون دے گا۔ اگر مذاکرات صرف وقتی سیاسی دباؤ کم کرنے یا بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنے کے لیے ہوں تو وہ پائیدار امن کی بنیاد نہیں بن سکتے۔فلسطینی صدر نے کہا ہے کہ امن کا راستہ بین الاقوامی قراردادوں اور قانون کے احترام سے نکلتا ہے۔ یہ مؤقف فلسطینی قیادت کی دیرینہ سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے: اپنے مطالبات کو عالمی فورمز پر پیش کرنا، فلسطینی ریاست کی حمایت حاصل کرنا اور سیاسی و قانونی ذرائع سے حل کی کوشش کرنا۔ عباس نے پُرامن عوامی مزاحمت اور سفارتی جدوجہد جاری رکھنے کی بھی بات کی ہے۔ تاہم فلسطینی معاشرے کے اندر ان کی قیادت اور اس حکمتِ عملی پر سوالات موجود ہیں۔

طویل عرصے سے انتخابات نہ ہونے، سیاسی تقسیم اور غزہ و مغربی کنارے میں مختلف انتظامی حقائق نے فلسطینی نمائندگی کو پیچیدہ بنایا ہے۔ کوئی بھی مذاکراتی عمل اسی وقت مضبوط ہوگا جب فلسطینی عوام اسے اپنی حقیقی سیاسی آواز اور وسیع تر اتفاقِ رائے کا حامل سمجھیں۔اسرائیل کے لیے بھی امن محض فلسطینی قیادت سے بات چیت کا نام نہیں۔ پائیدار معاہدے کے لیے شہریوں کی سلامتی، یرغمالیوں اور قیدیوں کے مسائل، سرحدوں اور بیت المقدس کی حیثیت، آبادکاری، پانی اور نقل و حرکت جیسے مشکل سوالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسرائیلی عوام کے تحفظ کے خدشات حقیقی ہیں، مگر سلامتی کے نام پر فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی مستقبل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح فلسطینیوں کے جائز حقوق تسلیم کیے بغیر اسرائیل کے لیے دیرپا استحکام ممکن نہیں۔ مذاکرات کو ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ ہر بحران کے بعد وہیں لوٹنے کا خطرہ رہے گا جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔علاقائی ممالک اور عالمی طاقتیں بھی اس عمل میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔

عباس نے قبرص سے امید ظاہر کی کہ وہ فریقین کو قریب لانے اور مکالمے کی حمایت میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ مگر بیرونی ثالثی اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب فریقین خود مذاکرات کے لیے تیار ہوں اور ثالث دونوں جانب قابلِ اعتماد سمجھا جائے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہیے: تشدد کی مذمت، شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی رسائی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یکساں زور دیا جائے۔ صرف کانفرنسیں اور مشترکہ بیانات کافی نہیں؛ معاہدے کی پابندی اور خلاف ورزیوں کے احتساب کے لیے بھی قابلِ اعتماد طریقۂ کار ہونا چاہیے۔عباس کی امید اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ سیاسی تعطل میں مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن امید کو پالیسی اور عملی اقدامات سے جڑنا ہوگا۔ نئی اسرائیلی حکومت فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے، آبادکاری سے متعلق اقدامات روکنے، انسانی امداد کی رسائی بہتر بنانے اور بامعنی مذاکرات کی تیاری سے اپنی نیت ظاہر کرسکتی ہے۔ فلسطینی قیادت بھی اپنے داخلی اختلافات کم کرنے، نمائندگی کو مضبوط بنانے اور ایسے سیاسی عمل کی طرف بڑھنے سے اعتماد پیدا کرسکتی ہے جس میں عوام کی رائے شامل ہو۔

یہ اقدامات آسان نہیں، مگر ان کے بغیر امن کی اپیلیں محض رسمی جملے بن کر رہ جائیں گی۔اسرائیل میں نئی حکومت ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہے، اس لیے فلسطینی صدر کی امید کا امتحان آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہوگا۔ اگر نئی قیادت مذاکرات کی بحالی کو سنجیدگی سے لیتی ہے تو یہ خطے کے لیے ایک موقع بن سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت سازی کے بعد بھی پالیسی وہی رہے، فلسطینی حقوق پر بات مؤخر ہو اور تشدد و پابندیاں جاری رہیں تو عباس کے بیان سے پیدا ہونے والی امید جلد مایوسی میں بدل سکتی ہے۔ امن کا راستہ صرف ایک فریق کے ہاتھ بڑھانے سے نہیں بنتا؛ اسے دونوں قیادتوں کے فیصلوں، عوامی اعتماد اور عالمی ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئی حکومت کا قیام ایک آغاز ضرور ہوسکتا ہے، مگر حقیقی پیش رفت اسی وقت ہوگی جب سیاسی مکالمہ ٹھوس تبدیلی اور فلسطینیوں و اسرائیلیوں دونوں کے لیے محفوظ مستقبل کی طرف بڑھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا