ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کا کردار؟

0
129

عمران رشید

ریاست انسانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک ایسا سیاسی اور قانونی بندوبست ہے جس کے تحت ایک متعین علاقے میں رہنے والے لوگ مشترک قوانین، اداروں اور نظم کے ذریعے اپنے معاملات چلاتے ہیں۔ اس کی بنیاد محض حکومت یا حکمران نہیں ہوتے۔ ریاست میں زمین، آبادی، اقتدارِ اعلیٰ اور ایسے ادارے شامل ہوتے ہیں جو قانون بناتے، اس پر عمل کراتے اور لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر ریاست کا وجود برقرار رہتا ہے۔ اسی لیے کسی ملک میں انتخابات کے بعد حکومت تبدیل ہو جائے تو ریاست ختم نہیں ہوتی؛ صرف اسے چلانے والے افراد اور جماعتیں بدلتی ہیں۔ریاست کی ضرورت اس حقیقت سے پیدا ہوئی کہ انسان سماجی زندگی میں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ معاشرے میں مختلف مفادات، اختلافات اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے فیصلے خود نافذ کرنے لگے تو طاقت ور کمزور پر غالب آ سکتا ہے اور اجتماعی زندگی انتشار کا شکار ہو سکتی ہے۔ ریاست کا بنیادی مقصد ایسے قواعد بنانا ہے جو سب پر لاگو ہوں، اختلافات کے حل کے لیے قانونی راستہ دیں اور ہر شہری کو تحفظ فراہم کریں۔ یوں ریاست شہریوں کی آزادیوں کو ختم کرنے کے بجائے ایک ایسا دائرہ قائم کرتی ہے

جس کے اندر ہر شخص اپنی آزادی استعمال کر سکے، مگر دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔ریاست کی پہلی بنیادی ذمہ داری امن و امان قائم کرنا ہے۔ شہریوں کو جان، مال اور عزت کا تحفظ ملنا چاہیے۔ پولیس، عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ مگر امن کا مطلب صرف سڑکوں پر خاموشی یا احتجاج کا نہ ہونا نہیں۔ حقیقی امن وہ ہے جس میں لوگ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں، اپنے مسائل بیان کر سکیں اور انہیں انصاف ملنے کی امید ہو۔ اگر قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقت ور کے لیے نرم ہو، تو بظاہر نظم برقرار رہنے کے باوجود معاشرے میں بے چینی بڑھتی رہتی ہے۔قانون کی حکمرانی ریاست کے کردار کا دوسرا اہم ستون ہے۔ قانون کا مطلب یہ نہیں کہ شہری صرف پابندیوں کے تابع ہوں؛ قانون حکمرانوں اور اداروں کو بھی حدود میں رکھتا ہے۔ ریاستی اختیار کسی فرد یا ادارے کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا۔ اسے آئین اور قانون کے مطابق استعمال ہونا چاہیے۔ جب شہری اور حکومت دونوں قانون کے سامنے جواب دہ ہوں تو اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر اختیارات کا استعمال من مانی سے ہو تو شہری اداروں کو اپنا محافظ نہیں بلکہ خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ریاست کا ایک بنیادی کردار شہری حقوق کی ضمانت دینا ہے۔ زندگی، آزادی، عزت، مساوات، مذہبی عمل، اظہارِ رائے، اجتماع اور منصفانہ سماعت جیسے حقوق کسی مہربانی کے طور پر نہیں دیے جاتے؛ یہ شہری ہونے کے تقاضوں میں شامل ہیں۔ ریاست کو ایسے حالات بنانے چاہییں جن میں لوگ اپنے عقیدے، زبان، شناخت اور رائے کے ساتھ محفوظ رہ سکیں۔ اختلاف رائے کو غداری یا دشمنی قرار دینا معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ اسی طرح اکثریت کی خواہش بھی اقلیتوں کے بنیادی حقوق مٹانے کا جواز نہیں بن سکتی۔اس کے ساتھ ریاست کو شہریوں کے فرائض اور اجتماعی ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی کرانی ہوتی ہے۔ قانون کی پابندی، دوسروں کے حقوق کا احترام، ٹیکس ادا کرنا، عوامی املاک کی حفاظت اور سیاسی عمل میں ذمہ دارانہ شرکت معاشرے کے مشترک مفاد سے جڑے ہوئے ہیں۔ حقوق اور فرائض ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ ایک منصفانہ نظام میں شہری ریاست سے تحفظ اور خدمات کا مطالبہ کرتے ہیں اور بدلے میں ایسے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں جو سب کے لیے ضروری ہوں۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ریاست کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر معیاری تعلیم صرف صاحبِ حیثیت لوگوں تک محدود ہو تو معاشرے میں طبقاتی فرق نسل در نسل بڑھتا ہے۔ سرکاری تعلیمی نظام کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو سیکھنے کا موقع دے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے یا خاندان سے ہو۔ صحت کے معاملے میں بھی ریاست کو بنیادی طبی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانی چاہیے۔ بیماری یا حادثے کے وقت علاج کی استطاعت نہ ہونا شہری کو غربت اور محرومی کے چکر میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ خدمات شہریوں کی صلاحیت بڑھاتی ہیں اور معاشرے کو زیادہ مضبوط بناتی ہیں۔ریاست معیشت کو بھی منظم کرتی ہے۔ اسے کاروبار، تجارت اور روزگار کے لیے واضح قواعد بنانے ہوتے ہیں، معاہدوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اور اجارہ داری یا دھوکے جیسے رویوں کو روکنا ہوتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے—سڑکوں، پانی، توانائی، نکاسی، مواصلات اور نقل و حمل—کی فراہمی بھی اجتماعی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ریاست ہر کاروبار خود نہیں چلا سکتی، لیکن یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ معاشی سرگرمی کے لیے منصفانہ اور قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرے۔ ترقی کا فائدہ اگر صرف چند طبقوں تک پہنچے تو مجموعی خوش حالی کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے۔

ریاست کا کام صرف آج کے مسائل حل کرنا نہیں، آنے والی نسلوں کے امکانات محفوظ کرنا بھی ہے۔ ماحول کا تحفظ، پانی اور قدرتی وسائل کا دانش مندانہ استعمال، آفات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی اور شہروں کی پائیدار تعمیر ایسے شعبے ہیں جن کے فیصلوں کا اثر کئی دہائیوں تک رہتا ہے۔ اگر حکومتیں صرف فوری سیاسی فائدے کو سامنے رکھیں اور مستقبل کے خطرات کو نظر انداز کریں تو نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور پانی کی کمی جیسے مسائل کسی ایک خاندان یا شہر تک محدود نہیں رہتے؛ ان کے لیے اجتماعی منصوبہ بندی ضروری ہے۔جمہوری ریاست میں عوام کی شرکت اقتدار کو جائز اور جواب دہ بناتی ہے۔ انتخابات شہریوں کو اپنے نمائندے چننے کا موقع دیتے ہیں، مگر جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا نہیں۔ پارلیمان، مقامی حکومتیں، آزاد صحافت، شہری تنظیمیں اور کھلا عوامی مکالمہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ شہریوں کو حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھانے اور معلومات تک رسائی کا حق ہونا چاہیے۔ جواب دہی سے اداروں کی غلطیاں سامنے آتی ہیں اور عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نام پر استعمال ہونے والا اختیار کہاں اور کیسے بروئے کار آ رہا ہے۔اس نظام میں اداروں کی آزادی اور باہمی توازن بھی ضروری ہے۔

قانون بنانے، حکومت چلانے اور انصاف فراہم کرنے کے کام الگ الگ ذمہ داریوں کے تحت انجام پاتے ہیں۔ اگر تمام اختیار ایک ہی مرکز میں جمع ہو جائے تو غلط فیصلوں کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے پارلیمان، انتظامیہ اور عدلیہ کی آئینی حدود واضح ہونی چاہییں۔ اداروں کے درمیان اختلاف کبھی کبھار سامنے آ سکتا ہے، مگر اسے آئین، قانون اور مقررہ طریقۂ کار کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کی طاقت کا اصل معیار صرف ان کے پاس موجود اختیار نہیں، بلکہ اس اختیار کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں ریاست کی ذمہ داری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ مختلف زبانوں، صوبوں، ثقافتوں اور معاشی حالات کے لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ملک کے فیصلوں اور وسائل میں ان کی بھی جگہ ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی مسائل کے حل میں مقامی نمائندگی، معیاری تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں۔ قومی وحدت یکسانیت سے نہیں بنتی؛ یہ اس اعتماد سے بنتی ہے کہ اختلاف کے باوجود ہر شہری کو برابر کا حق حاصل ہے اور ریاست اس کے ساتھ انصاف کرے گی۔ریاست اور حکومت میں فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔

حکومت ایک منتخب یا مقررہ انتظام ہے جو ایک مخصوص مدت کے لیے ریاست کے اداروں کو چلاتا ہے۔ ریاست اس سے بڑی اور دیرپا اکائی ہے۔ اسی لیے حکومت پر تنقید ریاست سے دشمنی نہیں؛ کئی مرتبہ یہی تنقید ریاستی اداروں کو بہتر بنانے اور شہری حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔ البتہ تنقید کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے: معلومات کی تصدیق، پرامن مکالمہ اور قانون کے دائرے میں رہ کر اختلاف کرنا اجتماعی زندگی کو مضبوط بناتا ہے۔ریاست کی کامیابی کا اندازہ صرف اس کی فوج، معیشت یا حکومتی عمارتوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ شہری خود کو کتنا محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرتے ہیں؛ کیا انہیں انصاف ملتا ہے، کیا بچے سیکھ سکتے ہیں، کیا بیمار کو علاج دستیاب ہے، اور کیا عام آدمی اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ ریاست تب مضبوط ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو، ادارے جواب دہ ہوں اور شہریوں کا اعتماد قائم رہے۔ ایسا اعتماد حکم سے پیدا نہیں ہوتا؛ اسے انصاف، شفافیت اور قابلِ اعتماد خدمات کے ذریعے کمایا جاتا ہے۔ یہی ریاست کا اصل کردار اور اس کی کامیابی کا معیار ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا