مجھ سے ایسی بات نہ کہلوائیں کہ پھر چلہ کاٹنا پڑے،شیخ رشید

0
159

راولپنڈی(طلوع نیوز) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں نو مئی کے مقدمات کے خلاف شیخ رشید کی دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سماعت بغیر کارروائی کے ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔ کیس کی سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی۔ شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبد الرازق خان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔قبل ازیں سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ پہنچے۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں شیخ رشید نے 9 مئی کے مقدمات کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔عدالت نے آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے مقدمات کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا عدالت نے پنجاب حکومت کو کیسز کی مکمل رپورٹ جمع کرانےکیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے، 9 مئی کے واقعات میں کسی مظاہرے میں شریک نہیں تھا۔شیخ رشید کا کہنا تھا چلہ کاٹنے کے بعد میرا نام 9 مئی کے مقدمات میں ڈالا گیا ہے، جس بندے نے میری گاڑی کی ضمانت دی تھی اس کو بھی اٹھایا گیا تھا، مجھ سے ایسی بات نہ کہلوائیں کہ 40 دن کا چلہ کاٹنے کے بعد پھر چلہ کاٹنا پڑے۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید کا کہنا تھا نواز شریف کو ریلیف ہی ریلیف ہے ان کو لمبا ریلیف ملے گا، جو شخص عوام کو بیوقوف سمجھتا ہے وہ خود سب سے بڑا بیوقوف ہے۔شیخ رشید کا کہنا تھا میں نے کسی کو کسی کے ہاتھ کوئی پیغام نہیں بھیجا، 10 دسمبر سے الیکشن مہم شروع کروں گا۔ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے کل کے فیصلے سے لگتا ہے کہ عام انتخابات میں ان کو بلے کا نشان ملے گا، الیکشن کیلئے چیف جسٹس پاکستان نے 8 فروری کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔علاوہ ازیں شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے شیخ رشید کے مقدمات پر پنجاب حکومت اور آئی جی سے جواب طلب کیا ہے۔وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ شیخ رشید کے خلاف مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، ہمیں عدالت سے انصاف کی اُمید ہے، عدالتیں میرٹ پر فیصلہ کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کے خلاف مقدمات چِلّے میں جانے کے بعد بنائے گئے ہیں، آئی جی پنجاب کی تحریری رپورٹ ہے کہ شیخ رشید کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا