عدلیہ کے ساتھ اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی

0
324

اسلام آباد (طلوع نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ چیف جسٹس بنا تو پتا چلا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا چیئرمین بھی ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے تعیناتی کے بعد اکیڈمی میں تبدیلیاں کیں، ماتحت عدلیہ کے افسران ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کر رہی ہے جبکہ اکیڈمی بورڈ میں اہم شخصیات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، قانون کے طالبعلم براہ راست سماعت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خطاب کرتے ہوئے قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کر رہا ہوں، کیسز کی براہ راست سماعت سے دیکھنے والوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ ملک بھرمیں 3200 ججز فرائض سر انجام دے رہے ہیں، خوشی ہے کہ عدلیہ میں ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے، براہ راست کارروائی نشر ہونے سے ججز و دیگر کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔براہ راست نشریات کے حوالے سے شفافیت یقینی بنائی گئی ہے اور قانون کے طالب علم کیسز کی براہ راست نشریات سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سول ججز تربیت یافتہ ہوں گے تو اعلی عدالتوں پر دبائو کم ہو گا، درخواست گزاروں کا پہلا واسطہ سول ججز سے پڑتا ہے، سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت لائیو ہوئی۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ وقت کی ضرورت ہے، کیسز کی سماعت کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وسائل کی بچت ممکن ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ عوامی اہمیت کے کیسز سپریم کورٹ سے براہ راست نشر ہوئے، یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا، غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی روکنے کے لیے ایسا کرنا ہو گا کہ سب کی جانب ایک جیسا معیار ہو۔براہ راست سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا