وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،سیلاب متاثرین کی امداد، بحالی پر بریفنگ،عمران خان کے بیانات پر بھی غور کیا گیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دن رات لیکچرز دینے والاان مسائل کا کوئی حل نکالیں جو اس سیلاب کی وجہ بنے، غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہمیں آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین پر عملداری کے لیے یکسو ہونا چاہیے، مشکل حالات سے نکلنے کے لیے ہمیں یکسو ہونا ہو گا اور کیا اب پوری قوم خاموش تماشائی بنے گی؟
کیا اب بھی قانون کی دھجیاں اڑائی جائیں گی؟ اور کیا غریب قوم کی محنت کی کمائی ان غلطیوں کی نذر ہو گی،مسلح افواج اور عوام کے رشتے کو توڑنے والا پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا۔
و زیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں ہوا، جس میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی موجودہ صورتحال، نقصانات کا تخمیہ، امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، سیلاب متاثرین امداد کی تقسیم کے عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں عمران خان کے توہین آمیز بیانات پر لائحہ عمل اختیار کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی، وزارت داخلہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف قانونی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ صورتحال بہت گھمبیر ہے اور اس کی تباہ کاریوں کا پھیلاو کافی زیادہ ہے،
سیلاب متاثرین کے لئے امداد پر بریفنگ
وفاق کی جانب سے سیلاب متاثرین میں 20 ارب روپے تقسیم ہو چکے ہیں، آئندہ 3 روز میں مزید 8 ارب بھی تقسیم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے مشاورت کے بعد متاثرین کے لیے مختص بجٹ میں مزید 28 ارب شامل کرتے ہوئے اسے 70 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے وفاقی حکومت یہ رقم متاثرین تک پہنچائے گی، اس حوالے سے کام شروع ہو چکا ہے،
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے لیے وفاق کی جانب سے 15 ارب روپے کے گرانٹ کا اعلان کیا گیا
ہے، اسی طرح صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لیے 10، 10 ارب روپے اور 3 ارب روپے گلگت بلتستان کو جاری کیے جائیں گے۔ابن کا کہنا تھا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب اپنے پیاروں کو کھو دینے والوں کے لیے وفاقی حکومت 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ این ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم کر رہی ہے،
معاوضے کے لیے مختص کل رقم کا بہت بڑا حصہ تقسیم کیا جاچکا ہے، اس مد میں پہلے این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے دیے گئے اور اب 3 ارب روپے مزید دیے جارہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دریائے سندھ میں ایک ڈرین کی ضرورت ہے، اگر ہم نے اس کا انتظام نہیں کیا تو خدانخواستہ آئندہ بھی قدرتی آفات کے نتیجے میں اسی طرح پانی جمع ہوجائے گا اور تباہی مچے گی، اس لیے اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف کی عمران خان کے بیانات کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف کہا کہ ہمارے افسروں اور جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف دشمن سے بچایا بلکہ ایک ایک چپے کی حفاظت کی اور دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے۔ پاکستان کی افواج نے اللہ کے سہارے اور اپنے عقیدے، مصمم ارادے سے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں تباہ کن سیلابوں سے در پیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پوری قوم متحد ہے،عوام نے جرات مندی سے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک بارپھر 1965 کی جنگ جیسے جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔






