ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ میں کسی قسم کی ترمیم کی اجازت نہیں دینگے.نایاب علی

0
489

۔
اسلام آباد (طلوع نیوز)خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے سرگرم کارکن نایاب علی نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ خواجہ سرا برادری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی اجازت نہیں دینگے،

ہم نے وفاقی شرعی عدالت میں اپنا جواب جمع کروادیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں

اپنے دیگر خواجہ سرا ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں خواجہ سرا برادری کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا، خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں خواجہ سراوں کے قتل کی بڑھتی ہوئی کوششوں اور قتل کے واقعات نے خواجہ سرا برادری میں عدم تحفظ پیدا کیا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2018 میں، پاکستان کی پارلیمنٹ نے ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظ برائے حقوق) ایکٹ، 2018 کی منظوری دی۔ یہ قانون عوامی بحث و مباحثہ کے بعد نافذ کیا گیا تھا اور اسے بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون ہم جنس پرستوں کی شادی کو فروغ نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے قانون پر تنقید کرنے والوں کو پہلے اس قانون کو پوری طرح پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ قانون ڈرافٹ کیا جارہا تھا تب اسے سائنسی،طبی، ثقافتی،مذہبی بنیادوں پر جانچا گیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی شرعی عدالت میں اپنا جواب جمع کروادیا ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا