کم آمدنی والوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ترجیح ہے!…وزیراعظم

0
172

(سٹی رپورٹر)
وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جاری ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحاتی کوششوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس بیس کو بڑھانا اور کم آمدنی والے شہریوں پر بوجھ کم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔پیر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے اردو زبان کے ٹیکس گوشواروں کو آسان بنانے کی تعریف کی اور عوام کو ریٹرن فائل کرنے میں مدد کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں عام آدمی کی سہولت پر توجہ دی جانی چاہئے۔انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ شفافیت برقرار رکھنے کے لئے ایف بی آر کی تمام اصلاحات کے لئے تھرڈ پارٹی توثیق کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل، جامع اور ڈیٹا بیس سے منسلک ٹیکس گوشواروں سے بنیادی طور پر تنخواہ دار افراد کو فائدہ ہوگا۔نئے ٹیکس فائلنگ سسٹم کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے جلد ہی عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس اسسمنٹ سسٹم کا نفاذ ایک بڑی کامیابی ہے۔نواز شریف نے یہ بھی ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو نئے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم میں ضم کرنے کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی جائے۔اجلاس میں سینئر وزرائ، ایف بی آر حکام اور اقتصادی ٹیم کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکاء کو انوائسنگ، ای بلٹی، کارگو ٹریکنگ کی ڈیجیٹلائزیشن اور سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ایف بی آر کے مطابق کنٹرول سینٹر کے لیے بولی جلد مکمل کر لی جائے گی، توقع ہے کہ یہ سسٹم ستمبر تک آپریشنل ہو جائے گا۔ سینٹرلائزڈ سسٹم کا مقصد ریئل ٹائم ڈیٹا تک رسائی اور فیصلہ سازی کو بڑھانا ہے۔عہدیداروں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈوانس گڈز ڈکلیریشن سسٹم پر بھی روشنی ڈالی۔ تاجر اب شپمنٹ کے آنے سے پہلے اعلانات جمع کراسکتے ہیں، جس سے پیشگی ڈیوٹیوں میں مکمل چھوٹ مل سکتی ہے۔ پیشگی اعلانات کا تناسب 3 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے بندرگاہوں سے فیکٹریوں تک براہ راست ترسیل ممکن ہوگی۔ڈیجیٹل انوائسنگ اقدام کے تحت تمام کاروباری اداروں کو ایف بی آر کے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے رسیدیں جاری کرنا ہوں گی۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں 20 ہزار سے زائد کاروباری ادارے سسٹم میں شامل ہوں گے، صرف ایک ماہ میں 11.6 ارب روپے مالیت کے 8 ہزار انوائسز جاری کیے جائیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تنخواہ دار افراد کے لیے ریٹرن 15 جولائی سے لائیو ہوں گے جبکہ دیگر کیٹیگریز 30 جولائی تک گوشوارے جمع کروا سکیں گی۔ تنخواہ دار افراد کے لیے اردو ورژن بھی دستیاب ہوں گے۔ایف بی آر کے ای بلٹی اور کارگو ٹریکنگ سسٹم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ترک ماہرین کی مدد سے یہ پلیٹ فارمز پاکستان کے انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار ات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے سامان کی نقل و حرکت اور ٹیکس کی تعمیل کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کو ممکن بنائیں گے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا