مسعود چوہدری
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 34 صفحات پر مشتمل ’ڈیفنس فورسز وژن 2047‘ بھارتی عوام کے سامنے پیش کی جسے بھارت کے سرکاری میڈیا اور حکومتی ترجمانوں نے ’بھارتی فوج کے مستقبل کا انقلابی خاکہ‘ قرار دے کر خوب تشہیر کی، لیکن دستاویز کا سنجیدہ اور غیر جانبدار جائزہ نہ صرف اس تاثر کی نفی کرتا ہے بلکہ متعدد زمینی حقائق سے متصادم دکھاء دیتا ہے۔ یہ دستاویز، جو وزیراعظم نریندر مودی کے سیاسی منصوبے ’وِکسِت بھارت‘ یعنی ترقی یافتہ بھارت کے زیرِ سایہ 2047 تک بھارت کو ’عالمی معیار کی فوج‘ کا حامل بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، درحقیقت ایک خطیبانہ اور سیاسی دستاویز زیادہ اور عملی روڈ میپ کم ہے۔ خود مغربی تھنک ٹینکس اور بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی اسے ’نظریاتی وضاحت کے بجائے سیاسی قیادت کو مطمئن کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔
دستاویز کا سب سے کمزور پہلو اس کا وہ تضاد ہے جو بلند بانگ دعووں اور بھارتی دفاعی اداروں کی تاریخی کارکردگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) کا عہدہ، جو 2001 کے گروپ آف منسٹرز کی رپورٹ میں ایک بااختیار ادارے کے طور پر تصور کیا گیا تھا، آج تک قانونی اختیارات سے محروم ہے۔ ڈیفنس پلاننگ کمیٹی اور 2018 میں قائم کی گئی تین خصوصی ایجنسیاں یا تو غیر فعال ہیں یا ابتدائی مراحل میں ہی رکی ہوئی ہیں۔ ایک بھارتی دفاعی یونیورسٹی کا منصوبہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے فائلوں میں دفن ہے۔ اگنی پتھ اسکیم، جو مختصر مدتی اور سروس مخصوص بھرتی پر مبنی ہے، دراصل تینوں افواج کے اشتراک (جوائنٹنس) کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہے۔ یوں وہی دستاویز جو ’تینوں سروسز کے مکمل انضمام‘ کا وعدہ کرتی ہے، اپنی ہی حکومت کی حالیہ پالیسیوں سے متصادم ثابت ہوتی ہے۔
بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2026-27 کا دفاعی بجٹ 7.85 لاکھ کروڑ بھارتی روپے، یعنی تقریباً 93 ارب ڈالر، کی بلند ترین سطح پر پہنچاہوا ہے۔ گو کہ اس رقم کو بھارتی ایکانمی کا کم ترین حصہ اور پاکستان کے فقط تقریباً 9 ارب ڈالر کے مقابلہ میں بہت زیادہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس رقم کا بڑا حصہ کرپشن و بدعنوانی کی نزر ہو جانا اپنے آپ میں ایک بڑی حقیقت ہے۔ دراصل سرمایہ جاتی مصارف (کیپیٹل ایکسپینڈیچر) کا حصہ بجٹ کا 29 فیصد ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق مثالی تناسب 40 فیصد ہونا چاہیے۔ یعنی بھارت کا اپنا سرکاری بجٹ ڈھانچہ اُن اہداف کو پورا کرنے سے قاصر ہے جو وژن 2047 میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مودی سرکار جب ماضی میں مشکل میں تھی تو کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن متعارف کرواء گء جو پاکستان کے بروقت و زبردست عسکری عملداری و حکمت عملی کے سبب آج تاریخ کے کوڑے دان میں پڑی ہے اور ایک ایسی ڈاکٹرائن بن چکی ہے جس سے مودی سرکار خود نظریں چراتی پھر رہی ہے۔ پھر جب ایک مرتبہ پھر مودی سرکار کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہوا تو”آتم نربھر”کا نعرہ لگایا گیا کہ انڈیجنس ڈیفنس پروڈکشن کی حکمت عملی اپناء جائے گی۔ یعنی تمام دفاعی مصنوعات اپنے ملک میں بناء اور ڈویلپ کی جائیں گی۔ اسی پالیسی کی مدد سے بھارت نے 5500 دفاعی اشیاء پر پابندی عائد کر دی کہ یہ مصنوعات اپنی بنائی ہوء استعمال کی جائیں گی۔
بظاہر اچھی دکھنے والی پالیسی اس بری طرح ناکام ہوء کہ ارجن ٹینک، تیجاز ہواء جہاز، آٹاگز و دھنش توپخانہ سسٹم، کی بدترین ناکامی سے براہموس کے خودبخود چل جانے تک ایک کے بعد ایک دفاعی پیداواری ناکامی بھارت کے قدم چوم رہی ہے۔دوسری جانب بھارت کی مقامی دفاعی پیداوار اہم ٹیکنالوجیز، توانائی اور نادر زمینی دھاتوں کی درآمد پر بھاری انحصار رکھتی ہے، یعنی ’آتم نربھرتا‘ یا خود انحصاری کا نعرہ زمینی حقائق سے کہیں آگے کا خواب ہے۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اب بھی مودی حکومت چونکہ مشکلات کا شکار ہے اور نوجوانوں کے جنتر منتر احتجاج، پاکستان سے ہزیمت اٹھانے،اور اسی تناظر میں عالمی طور پر اکیلا پن محسوس کرنے کے بعد کی زمینی صورتحال میں زیادہ پرزور انداز میں ڈیفینس فورسز ویژن 2047 بھارتی عوام کو اپنی جانب راغب کرنے اور اپنے بھگتوں کو اپنے ساتھ مضبوطی کیساتھ جوڑے رکھنے کے لیے جاری تگ و دو کا حصہ ہے۔ دستاویز کی سب سے نمایاں خامی وہ خاموشی ہے جو اس نے چین اور پاکستان سے متعلق حقیقی خطرات پر اختیار کر رکھی ہے۔
باوجود اس کے کہ مئی 2025 کے بھارت – پاکستان دوبدو تصادم، جسے بھارت ’آپریشن سندور‘ کا نام دیتا ہے، اور جس جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص و معرکہ الحق کے دوران چین کے بنے اسلحہ کابھی استعمال کیا جسے عالمی طور پر دفاعی میدان میں پاکستان کو براہِ راست چین کی مدد حاصل ہونے کے اشارہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور جس فتح کے نتیجہ میں پاکستان نے بحرِ ہند کے خطے میں اپنی موجودگی مزید مستحکم و بااثر بنا لی ہے، اس کے باوجود وژن 2047 دستاویز میں نہ چین کا کھل کر ذکر ہے اور نہ پاکستان کا۔ یہ خاموشی دراصل بھارتی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کی اُس کمزوری کو چھپانے کی کوشش ہے جو مئی 2025 کے تصادم کے دوران عیاں ہوئی، پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا نہ صرف مؤثر و منہ توڑ جواب دیا بلکہ بھارتی فضائی اور میزائل صلاحیتوں کو براہِ راست میدان میں چیلنج کر کے ہندوتوا غرور کو خاکستر کر کے خود کو بھارت سے کء گنا برتر، اعلی، منظم، اور بالاتر ثابت کیا۔ نئی دہلی کا اپنی ہی سرکاری دستاویز میں اس تصادم کے نتائج پر کھل کر بحث نہ کرنا ایک ایسی سیاسی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے جو داخلی سطح پر ’وِکسِت بھارت‘ کے بیانیے کو مضبوط رکھنے کے لیے فوجی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔
گویا ہزیمت کے بعد رونے دھونے والے فیصلہ سازوں کو تھپکی دیتے ہوئے حوصلہ دینے کی ایک کوشش سمجھ لیں۔ کوء بھی عسکری حکمت عملی اپنے سچ کو قبول کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس تناظر میں پاکستان کی پوزیشن کا معروضی جائزہ ضروری ہے۔ درست ہے کہ محض عددی اعتبار سے پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت سے کہیں کم ہے، مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً تین کھرب پاکستانی روپے، یعنی نو ارب ڈالر کے لگ بھگ، مختص کیا گیا ہے، جو بھارتی بجٹ کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔ لیکن دفاعی طاقت کا حقیقی پیمانہ محض بجٹ کے ہندسے نہیں بلکہ تزویراتی تاثیر، اتحادی ڈھانچہ اور عملی کارکردگی ہے۔ اسی اصول پر پاکستان نے مئی 2025 کے تصادم میں کم وسائل کے باوجود مؤثر دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا
اور بھارتی دعووں کو زمینی حقائق کے ذریعے چیلنج کیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنی تزویراتی سفارت کاری کو مزید مستحکم کیا، چین کے ساتھ دیرینہ دفاعی و تکنیکی تعاون بڑھایا اور مضبوط کیا، ترکیہ سے ڈرون اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کا حصول یقینی بنایا، اور سب سے بڑھ کر 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں اور جس میں دیگر ممالک بھی شمولیت کا عندیہ دے رہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد وسائل کی کمی کے باوجود اتحاد سازی اور تزویراتی گہرائی کے ذریعے اپنی سلامتی کو مؤثر انداز میں یقینی بنا رہا ہے۔پاکستان کا جوہری تحفظ (نیوکلیئر ڈیٹرنس) بجٹ کے فرق کے باوجود بھارت کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو خطے میں کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا وژن 2047 دستاویز خود اعتراف کرتی ہے کہ وہ بحرِ ہند کے خطے میں اپنے سیکیورٹی کردار کی کوئی واضح تعریف پیش نہیں کر پاتی، اور نہ ہی روایتی و غیر روایتی خطرات کا کوئی جامع تجزیہ فراہم کرتی ہے۔
یوں بھارتی دفاعی منصوبہ بندی، اپنے وسیع تر مالی وسائل کے باوجود، تصوراتی ابہام اور ادارہ جاتی تعطل کا شکار ہے، جبکہ پاکستان نے محدود وسائل میں تزویراتی وضاحت، اتحادی نیٹ ورک اور عملی کارکردگی کے ذریعے اپنی سلامتی کی ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔بھارتی دفاعی اصلاحات کی تاریخ گواہ ہے کہ بلند بانگ اعلانات اکثر ادھورے خوابوں میں بدل جاتے ہیں۔ ’ڈیفنس فورسز وژن 2047‘ بھی اسی روایت کا تسلسل معلوم ہوتی ہے، ایک ایسی دستاویز جو داخلی سیاسی جواز اور عالمی سطح پر طاقت کے تاثر کی تخلیق کے لیے تو کارآمد ہے، مگر جس کے پیچھے مالی وسائل، ادارہ جاتی اہلیت اور سیاسی عزم، تینوں کی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ نئی دہلی کی حکمتِ عملی سازی خود اپنے تضادات میں الجھی ہوئی ہے، جبکہ پاکستان نے اپنی محدود مگر ہدف پر مبنی تزویراتی سرمایہ کاری، علاقائی اتحادوں اور غیر متزلزل دفاعی عزم کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ خطے میں اصل تزویراتی سکون بجٹ کے حجم سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی کی وضاحت اور عملدرآمد کی صلاحیت سے آتا ہے۔






