پریکٹس اینڈ پروسیجر ، سٹیبلشمنٹ رولز کثرت رائے سے منظور

0
114

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ سروس رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز بغیر ڈسکشن کے اکثریتی رائے سے منظور کر لیے گئے۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کی اور تمام 11 ججز نے شرکت کی۔ اجلاس صرف 35 منٹ جاری رہا۔

ایک جج نے رولز پر مشاورت کے لیے اجلاس مؤخر کرنے کی استدعا کی، تاہم یہ مسترد کر دی گئی۔ رولز کی منظوری میں 6 ججز نے حق میں اور 5 ججز نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ حق میں ووٹ دینے والے ججز میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس شامل تھے۔ مخالفت کرنے والے ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔

فل کورٹ میٹنگ کے ایجنڈے میں ترمیم کے لیے دو ججز کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے خطوط زیر بحث نہیں آئے۔ اجلاس میں سروس رولز میں ترمیم کے ابتدائی ڈرافٹ کے مبینہ طور پر گم ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔

اس کے علاوہ، فل کورٹ اجلاس میں پہلے دو ایجنڈا آئٹمز کی متفقہ منظوری دی گئی، جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی بلڈنگ کے نقائص کو حکومت کے نوٹس میں لانا اور فیملی کورٹ کے ججز کے اختیارات کے حوالے سے فیصلے شامل تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا