دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، کوٹری بیراج اور گردونواح میں کئی دیہات زیرِ آب

0
150

لاہور، ملتان، سکھر: دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ جاری ہے جس سے کئی دیہات زیرِ آب آگئے اور چاول سمیت دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں۔

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ میں 12 ہزار کیوسک اضافہ ہوا جس سے مجموعی بہاؤ بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ اس وقت کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ رپورٹ کے مطابق منگلا ڈیم بھرنے کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ باقی دریا معمول پر آگئے ہیں۔

سیلابی صورتحال کے باعث ٹھٹہ میں کچے کے مزید کئی دیہات زیرِ آب آگئے۔ سیکڑوں ایکڑ پر چاول، کپاس، کیلے اور پپیتے سمیت دیگر فصلیں شدید متاثر ہوئیں۔ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات اور حفاظتی بندوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ جامشورو کے انڑ پور، یونین کونسل شاہ اویس اور کچے کے دیہات میں پانی کا دباؤ بڑھنے لگا ہے جبکہ نواب شاہ کے علاقے سکرنڈ مڈ منگلی حفاظتی بند پر خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

ضلع سجاول میں بھی دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے جس پر ضلعی انتظامیہ نے خیمہ بستیاں قائم کر دی ہیں۔

دوسری جانب دریائے چناب اور ستلج سے متاثرہ جلال پور پیر والا میں اب بھی درجنوں بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور اُچ شریف روڈ پر متاثرین پانی کے اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ نوراجہ بھٹہ بند میں شگاف کی مرمت جاری ہے جبکہ ایم-5 موٹر وے ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک 14 ویں روز بھی بند ہے۔

سیلاب سے متاثرہ سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام بھی جاری ہے۔ رحیم یار خان، بہاول نگر اور بہاول پور کے وسیع علاقے متاثر ہوئے ہیں جن میں نقصانات کا سروے شروع کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق حالیہ سیلاب میں 71 بریج اپروچ روڈز متاثر ہوئے جن میں سے 53 بحال کر دیے گئے ہیں۔ 439 پلیاں متاثر ہوئیں جن میں سے 131 مرمت کر دی گئی ہیں۔ 53 آرٹیریل روڈز میں سے 49 بحال ہوئیں جبکہ 844 مقامی سڑکوں میں سے 636 کی مرمت مکمل ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ علی پور اور سیت پور میں سی اینڈ ڈبلیو نے ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ لیاقت پور، خان گڑھ اور ڈومہ روڑ پر شگاف کی مرمت مکمل کر دی گئی ہے۔ احمد پور شرقیہ میں نذرو والی ہٹی تا مکھان بیلہ روڈ کی تعمیر بھی مکمل کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سیت پور تا مریڑی سڑک اور احمد پور کے علاقے بستی عظیم شاہ و کل کنول کی بحالی بھی کر دی گئی ہے۔

ادھر سیلاب سے متاثرہ خانیوال شورکوٹ ریلوے سیکشن 20 روز بعد بھی بحال نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا