پاکستان پسنی بندرگاہ کی سکیورٹی کسی کے حوالے نہیں کرے گا: سکیورٹی ذرائع

0
187

اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان کی پسنی بندرگاہ کے آپریشنز کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں، تاہم اس پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق پسنی بندرگاہ پاکستان کی معدنیات کو شراکت دار ممالک تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی لیکن اس کی سکیورٹی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ پاکستان کی بندرگاہوں اور منصوبوں کی حفاظت کی ذمہ داری صرف پاکستانی فورسز پر ہی عائد ہوگی۔

ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے کندھے پر رکھ کر سکیورٹی حاصل نہیں کرے گا، یہ ہمارے ڈی این اے میں ہی شامل نہیں کہ ملک کے کسی حصے کی حفاظت کیلئے غیر ملکی خدمات حاصل کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان شراکت داری ضرور کرے گا مگر سکیورٹی کی گارنٹی صرف خود دے گا۔ گوادر پورٹ سمیت دیگر منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری موجود ہے مگر تمام کی سکیورٹی پاکستانی فورسز کے پاس ہے۔

ذمہ دار ذرائع کا کہنا تھا کہ صرف ایک یا دو پورٹس ڈویلپ کرنے سے مسائل کا حل نہیں نکلے گا۔ پاکستان ایک اہم ترین سمندری راستے پر واقع ہے اور مزید بندرگاہوں کی ترقی وقت کی ضرورت ہے تاکہ ملکی صلاحیت کو پوری طرح بروئے کار لایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پسنی بندرگاہ کے بعد معدنیات اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے مزید تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ عالمی رجحانات کے مطابق اپنے وسائل کو بروئے کار لائے۔

ذرائع نے کہا کہ جیسا کہ گزشتہ صدی آئل اینڈ گیس کی صدی تھی، موجودہ صدی منرلز اینڈ مائننگ کی صدی ہے، یہی وقت ہے کہ پاکستان اس شعبے میں اپنے پوٹینشل سے فائدہ اٹھائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا