انڈونیشیا: مدرسے کی عمارت گرنے کے 9 روز بعد امدادی کارروائیاں مکمل، 67 افراد جاں بحق

0
165

انڈونیشیا میں اسلامی بورڈنگ اسکول الخوزینی کی کثیرالمنزلہ عمارت 29 ستمبر کو نمازِ عصر کے وقت منہدم ہونے کے نتیجے میں خوفناک سانحہ پیش آیا، جس میں درجنوں طلبا اور اساتذہ ہلاک ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں 170 سے زائد طلبا اور اساتذہ موجود تھے، جب کہ عمارت کا بالائی حصہ زیرِ تعمیر تھا۔

نو روز تک جاری رہنے والی امدادی کارروائیاں اب مکمل کرلی گئی ہیں۔ نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی (Basarnas) کے سربراہ محمد شفیع نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 171 افراد کو ملبے سے نکالا گیا، جن میں 67 لاشیں، 8 انسانی اعضا، اور 104 زندہ افراد شامل تھے۔

ابتدائی تین دنوں تک امدادی کارکنوں نے ہاتھوں اور ہلکی مشینری کے ذریعے تلاش کا کام جاری رکھا، جب کہ “گولڈن پیریڈ” کے بعد لواحقین کی اجازت سے بھاری مشینری استعمال کی گئی۔

قومی آفات ایجنسی (BNPB) کے نائب سربراہ بُدی اراوان کے مطابق اب مزید لاشوں کے موجود ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کی ٹیم کے مطابق اب تک صرف 17 لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے، جس سے لواحقین کو مشکلات درپیش ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں ناقص تعمیراتی معیار کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، جب کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہ ہونے سے مستقبل میں مزید سانحات رونما ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل رواں سال ستمبر میں مغربی جاوا میں ایک اور عمارت گرنے سے تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، جس نے عمارتوں کی سلامتی کے حوالے سے خطرات کو اجاگر کیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا