پاکستان ماحولیاتی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات (پاک ای پی اے) نے وفاقی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور سموگ سے نمٹنے کے لیے ’’وہیکلز ایمیشن کنٹرول ایکشن پلان‘‘ متعارف کرا دیا۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے ترجمان محمد سلیم شیخ کے مطابق اس منصوبے میں قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد گاڑیوں کے دھوئیں میں کمی، صاف ایندھن کے استعمال اور برقی گاڑیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اسلام آباد میں فضائی آلودگی کو خطرناک حد تک پہنچا رہا ہے، اسی لیے یہ پلان شہریوں کو صاف اور صحت مند فضا فراہم کرنے کے لیے واضح روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔ اب ہنگامی اقدامات کے بجائے ایک مستقل نظام نافذ کیا جا رہا ہے جس میں سخت نفاذ، آگاہی اور عوامی شمولیت شامل ہے۔
ابتدائی مرحلے میں پاک ای پی اے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس گاڑیوں کی چیکنگ کریں گے تاکہ قومی ماحولیاتی معیار پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔ تمام سرکاری گاڑیوں کے لیے نیشنل انوائرومنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز سے مطابقت لازمی قرار دی گئی ہے، جب کہ نجی و تجارتی گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی اخراج ٹیسٹنگ شروع کی جائے گی۔ حالیہ مہم کے دوران آٹھ مقامات پر چیکنگ کے دوران 215 گاڑیوں کو جرمانہ اور 32 گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں، ٹرکوں اور واٹر ٹینکروں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی، جب کہ پٹرول گاڑیوں میں کیٹالٹک کنورٹرز لازمی ہوں گے۔ کوڑا کرکٹ جلانے والوں کے خلاف بھی جرمانوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر فضائی آلودگی پر قابو ممکن نہیں، ہر شہری کو اپنی گاڑیوں کی دیکھ بھال اور ماحول دوست رویے اپنانا ہوں گے۔
طویل المدتی مرحلے (18 سے 60 ماہ) کے تحت برقی گاڑیوں کے فروغ، یورو-5 ایندھن 2027 تک اور یورو-6 ایندھن 2030 تک متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہیں۔ پرانی اور زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مرحلہ وار خاتمے کی پالیسی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد کو صاف، جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کا ماڈل شہر بنایا جائے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد پاک ای پی اے، آئی سی ٹی انتظامیہ، سی ڈی اے، اوگرا اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے باہمی اشتراک سے ہوگا۔






