گرفتار خودکش بمبار نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بےنقاب کر دیا

0
529

جنوبی وزیرستان: فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) کی ایک کارروائی میں جنوبی وزیرستان سے ایک خودکش بمبار گرفتار کیا گیا ہے جس کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کے طور پر ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ قندھار کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ نعمت اللہ قندھار کے ایک مدرسے کا طالب علم ہے اور حفظ کر رہا تھا۔

گرفتاری کے بعد ملزم نے اعترافی بیان میں کہا کہ مدرسہ میں موجود بعض افراد نے انہیں بتایا کہ پاکستانی فوج کے خلاف جہاد جائز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور دیگر 40 افراد خوست میں جمع ہوئے اور براستہ چیوار پاکستان داخل ہوئے۔ بعد ازاں وہ بروند (جنوبی وزیرستان) گئے جہاں ان کے مطابق طالبان کا ایک مرکز قائم تھا۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ ان کا کمانڈر عمر حماس تھا جو خودکش حملوں کی تربیت دیتا تھا۔ تربیت عام طور پر تین ماہ کی ہوتی تھی جبکہ وہ خود ایک ہفتے کی تربیت ہی لے سکا۔ تربیت کے دوران انہیں گاڑی پر خودکش حملہ کرنے، چیک پوسٹس اور فوجی اہداف پر حملے کے طریقے سکھائے گئے۔ ملزم نے بتایا کہ ان کے گروپ میں 20 نوجوان شامل تھے جن کی عمریں تقریباً 18 تا 22 سال تھیں۔

اعترافی بیان میں نعمت اللہ نے کہا کہ تربیت کے دوران اذان سن کر اسے احساس ہوا کہ پاکستانی فوج بھی مسلمان ہیں اور اس لیے ان پر خودکش حملہ کرنا حرام ہے، جس کے بعد وہ حملے سے منحرف ہو گیا۔

پولیس و سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان انکشافات سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان طالبان کم عمر نوجوانوں کی ذہن سازی کے ذریعے انہیں افواج پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس تشویش کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان میں بعض کالعدم عناصر پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے نوجوان بھرتی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے اور دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہیں بند کی جائیں۔ حکام اس گرفتاری کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا