پاکستان نے بارٹر ٹریڈ کا نیا فریم ورک نافذ کر دیا

0
116

پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کا نیا فریم ورک نافذ کر دیا ہے۔ وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر میکانزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت شرائط نرم کر دی گئی ہیں۔

اب برآمد سے پہلے لازمی درآمد کی شرط ختم کر کے بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔ نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی سہولت بھی مل گئی ہے اور بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 روز سے بڑھا کر 120 روز مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ مخصوص اشیا کی فہرست ختم کر کے اسے عام ایکسپورٹ و امپورٹ پالیسی آرڈرز کے مطابق کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے بارٹر ٹریڈ کو زیادہ عملی اور کاروبار دوست بنایا جا سکے گا۔

جون 2023 میں نافذ کیے گئے میکانزم پر عمل کے دوران مختلف مسائل سامنے آئے تھے۔ بزنس گروپس نے محدود مصنوعات، لازمی درآمد کی شرط، بیرون ملک مشنز سے تصدیق اور 90 روز میں کھاتوں کی تصفیے جیسی پابندیوں کو رکاوٹ قرار دیا تھا۔

ان مسائل کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز، اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر اور پاکستان سنگل ونڈو سے مشاورت کے بعد ترامیم کی منظوری دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا