سپریم کورٹ میں 26ویں ترمیم پر بحث، فل کورٹ کی تشکیل پر زور

0
485

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت 8 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں۔ دیگر ججز میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مسرت ہلالی سمیت متعدد ججز شامل ہیں۔

درخواست گزار اکرم شیخ کا مؤقف تھا کہ 26ویں ترمیم آئین پر بہت بڑا اثر ڈالتی ہے، اس لئے اس کیس کو صرف فل کورٹ یعنی تمام ججز سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی چھوٹا آئینی بینچ یہ معاملہ نہیں سن سکتا۔

بینچ نے وکیل سے پوچھا کہ کس اختیار کے تحت فل کورٹ بنایا جا سکتا ہے؟ ججز نے نشاندہی کی کہ پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ موجودہ بینچ اس کیس کی سماعت کے لیے مجاز نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر تمام 24 ججز بیٹھیں تو کیا انہیں آئینی بینچ نہ کہا جائے؟

اکرم شیخ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم متنازع ہے اور اسے کالعدم قرار دینے کے لیے فل کورٹ ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی ڈکٹیٹر نے بھی آئین کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اس ترمیم نے دیا۔

سماعت کے دوران ججز نے بار بار آئینی نکات، مفادات کے ٹکراؤ اور بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھائے۔ عدالت نے وکلاء کو آرٹیکل 191 اور دیگر متعلقہ دفعات دیکھنے کی طرف متوجہ کیا۔

آخر میں سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی، اور وکلاء سے مزید آئینی دلائل طلب کر لیے گئے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا