استنبول: ترکی کے سیاحتی شہر بودرم کے قریب بحیرہ ایجیئن میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
مغلا گورنریٹ کے دفتر کے مطابق، کوسٹ گارڈ کو جمعہ کی صبح ہنگامی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ ایک افغان شہری سمیت دو افراد کو بچا لیا گیا، جن میں سے ایک نے بتایا کہ کشتی پر 18 افراد سوار تھے اور روانگی کے 10 منٹ بعد ہی پانی بھرنے کے باعث ڈوب گئی۔
کوسٹ گارڈ کی چار کشتیاں، ایک ہیلی کاپٹر اور غوطہ خوروں کی ٹیم اب بھی دو لاپتہ افراد کی تلاش کر رہی ہے۔
ترک حکام کے مطابق کشتی بودرم سے روانہ ہوئی تھی، جو یونانی جزیرے کوس کے قریب واقع ہے۔ تارکینِ وطن عموماً ترکی کے ساحل سے یونان کے جزائر تک مختصر مگر خطرناک سفر کے ذریعے یورپی یونین پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کے مطابق، رواں سال اب تک تقریباً 1,400 تارکینِ وطن بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔






