غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے سپرد کیا جائے، استنبول اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

0
356

استنبول میں غزہ کی صورتحال پر ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے اور انسانی امداد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ وزرائے خارجہ نے روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کی بلا تعطل غزہ میں داخلے کا مطالبہ بھی کیا۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ان کی قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ غزہ کا سیاسی و انتظامی نظام کسی بیرونی قوت کے بجائے مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔

مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں ایک غیرجانبدار بین الاقوامی فورس کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا گیا، جو امن کی نگرانی کرے اور انسانی امداد کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ وزرائے خارجہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں اور اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بتایا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، اور فریم ورک کی تکمیل کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا