وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو بلاوجہ خوفناک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، ترمیم پر ابھی مشاورت کا آغاز ہوا ہے اور کسی بھی آئینی تبدیلی پر اتفاقِ رائے کے بغیر پیش رفت نہیں ہوگی۔
ایک انٹرویو میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے ذکر کردہ نکات پر دو سے چار ماہ سے بات چیت جاری ہے، تمام امور پر اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔ ان کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ ایسی دستاویز سامنے لائیں جس پر مکمل اتفاق ہو۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ مجوزہ ترامیم میں جمہوریت کے لیے کوئی خطرہ نہیں، میثاقِ جمہوریت کے مطابق آئینی عدالت کی تشکیل ہمارا دیرینہ مؤقف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی بینچ کا تصور پی ٹی آئی نے دیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی آئینی عدالت کے حق میں ہے، اور ججز کی تقرری یا ٹرانسفر کا اختیار حکومت نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔
این ایف سی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بات چیت شروع ہوگی تو واضح ہوگا کہ کون راضی ہے اور کون ناراض۔ ان کے بقول اپوزیشن میں مقابلہ ہے کہ کون زیادہ جارحانہ انداز اختیار کرتا ہے۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے رابطے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور وزیر اعظم دو بار ان سے بات بھی کر چکے ہیں۔






