لاہور: لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ملک بھر کے وکلا سے وفاقی آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ کمیٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر غیر آئینی حملہ ہیں۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی کے مطابق سپریم کورٹ کی موجودگی میں کسی آئینی عدالت کی ضرورت نہیں، اور جو اس غیر آئینی ادارے کا حصہ بنے گا وہ آئین، عدلیہ اور عوام کے مخالف تصور ہوگا۔
کمیٹی نے تمام بار ایسوسی ایشنز سے ہر جمعرات کو جنرل ہاؤس اجلاس اور ریلیاں نکالنے کی ہدایت کی ہے، اور آئندہ کنونشنز کے انعقاد کے لیے تعاون کا اعلان بھی کیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر آصف نسوانہ نے کہا کہ ہر جمعرات ارجنٹ کیسز کے بعد مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا، اور جنرل ہاؤس اجلاس کے بعد ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔
صدر بار نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے سب سے زیادہ ججز متاثر ہوئے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کی حیثیت ختم ہو گئی ہے، اور ہائیکورٹ کے ججز پر ٹرانسفر کی دھمکی لٹک رہی ہے۔





