واشنگٹن: واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت کی حکومت نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکی دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریلائنس کمپنی اور روسنیفٹ کے دس سالہ تیل معاہدے کو امریکی پابندیوں کے سامنے منسوخ کرنا پڑا، اور مکیش امبانی نے بھی روسی تیل خریدنا بند کر دیا۔
امریکی ٹیرف اور دباؤ کے باعث بھارت نے روسی تیل ترک کیا، حالانکہ یہ ملک برسوں سے اربوں ڈالر کا فائدہ اٹھا رہا تھا، اور اس کے سٹریٹجک خودمختاری کے دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھ گئے۔
اب بھارت روس کی بجائے مشرق وسطیٰ اور ممکنہ طور پر امریکہ سے مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہے، جبکہ ریلائنس کی جمنگر ریفائنری یکم دسمبر سے مکمل طور پر غیر روسی خام تیل پر چلائی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ریلائنس کی روسی تیل بندش واشنگٹن کے لیے اہم رعایت ہے، لیکن اس کے نتیجے میں بھارت کو تیل کی خریداری پر زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔






