واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان کیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے تفصیلی بات چیت کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے باضابطہ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کا نفاذ امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات 2 بجے) ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں نے 34 سال بعد واشنگٹن میں ملاقات کی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ فریقین کے ساتھ مل کر پائیدار امن کے لیے کام کریں۔
امریکی صدر نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی تنازعات کو ختم کروانا ان کے لیے اعزاز ہے اور یہ ان کی دسویں کامیابی ہوگی۔
اپنے ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے تاکہ 1983 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب لبنان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
جنگ بندی کی کوششوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملے بھی جاری رہے، جن میں رہائشی عمارتوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک شہری جاں بحق ہوا۔
لبنانی صدر جوزف عون نے جنگ بندی کے لیے کوششوں پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔






