اسلام آباد(طلوع نیوز) اسلام آباد احتساب عدالت میں شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف ایل این جی ریفرنس پر سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایل این جی ریفرنس پر سماعت کی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے وکیل کے ہمراہ احتساب عدالت پیش ہوئے۔شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے عدالت میں دلائل دئیے کہ الزام ہے شاہد خاقان عباسی نے ملی بھگت سے ایل این جی کا ٹھیکہ دیا، انہوں نہیں بلکہ کابینہ نے متفقہ فیصلہ کیا، آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلاء دلائل جاری رکھیں گے۔
بعد ازاں احتساب عدالت نے شاہد خاقان عباسی ودیگر کیخلاف ایل این جی ریفرنس کی سماعت 16 جولائی تک ملتوی کردی۔ رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعدگفتگو میں ملکی بجٹ بنانے سے متعلق مفت مشورہ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بجٹ کوئی بھی بنا سکتا ہے،پیسے ادھار لیں اور بجٹ بنا لیں،حکومت کی پرفارمنس سے متعلق عوام انتخابات والے دن فیصلے دیں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چار سال سے عدالت آ رہا ہوں ابھی تک کیس چلا ہی نہیں،میرے خلاف الزام لگایا تھا تو کیس چلائیں۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نیب ادارہ ختم کرے،نیب جیسا ادارہ ہو گا تو ملک ترقی نہیں کرے گا،میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے تو نیب کو معافی مانگی چاہیے






