اسلام آباد(طلوع نیوز)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا، ایگزیکٹو بورڈ میں پاکستان کا نام شامل نہیں۔پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف قرض کی اگلی قسط کی منظوری کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم اب تک اس حوالے سے ڈید لاک برقرار ہے۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا، میں پاکستان کا نام شامل نہیں تاہم معاملات کی منظوری کیلئے یوگینڈا، آئس لینڈ سمیت دیگر ممالک کے نام شامل ہیں۔ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ حکام اور آئی ایم ایف حکام آئندہ دنوں ورچوئل رابطے کریں گے، اسٹاف لیول معاہدے کی صورت میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا خصوصی اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔حکام وزارت خزانہ کے مطابق 6.5 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف قرض پروگرام 30 جون کو ختم ہورہا ہے، پاکستان کو اب تک 3.9 ارب ڈالر ہی حاصل ہوسکے ہیں، آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً 2.5 ارب ڈالر زیر التواء ہیں۔جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت حالیہ بجٹ پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ’یقینی طور پر مسلسل رابطے‘ میں ہے، انہوں نے زور دیا کہ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ جاری بیل آؤٹ پیکیج کا نواں جائزہ مکمل نہیں ہوگا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی پہلے ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ اجلاس ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ مالیاتی ادارہ وزارت خزانہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اور بجٹ کی تفصیلات، ڈیٹا کے حصول اور تمام چیزوں کی وضاحت حاصل کرنے کے لیے سوالات کر رہا ہے۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے درمیان 2 دونوں کے دوران متعدد سیشنز ہوئے ہیں، لہٰذا یقینی طور پر ہم مسلسل رابطے میں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک رابطے کے تسلسل کا تعلق ہے تو کسی کو کیوں کہنا چاہیے کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا دو طرفہ ممالک کے ساتھ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر مذاکرات شروع ہوئے ہیں، جس پر ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے وضاحت کے ساتھ بتایا ہے کہ پاکستان اس آپشن پر غور کر سکتا ہے لیکن پیرس کلب میں جانے کا نہیں سوچ رہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کثیرالجہتی، تجارتی یا دیگر بین الاقوامی قرضوں پر ڈیفالٹ نہیں ہوگا، حالانکہ وہ دوسرے ممالک کی طرح اپنے دو طرفہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر غور کر سکتا ہے۔






