بنکاک: تھائی لینڈ میں تین صدیوں بعد ہونے والی ریکارڈ بارشوں نے ملک کے 9 صوبوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی اور معمولاتِ زندگی معطل ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ صوبوں میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 300 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی آئی اور سیلابی ریلے رہائشی علاقوں کی طرف بہہ آئے، جس سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، درخت، ہورڈنگز اور مکانات کی چھتیں گریں، اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
وزارتِ صحت کے مطابق بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 100 سے زائد زخمیوں کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے منتقل کیا گیا ہے۔ میونسپل ادارے ریڈ الرٹ پر ہیں اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
متاثرہ صوبوں میں سکول اور دفاتر تقریباً بند ہیں، شہریوں کو ساحل سے دور رہنے اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں غیر متوقع، خطرناک حد تک اور بے موسم بارشیں، سیلاب، برفباری اور زلزلے موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، جو انسانی اور ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔






