وادی تیراہ میں خوارج کی سرگرمیوں سے پشاور میں دہشت گردی کا خدشہ بڑھ گیا

0
584

پشاور: وادی تیراہ میں خوارج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث افغان خوارج تیراہ سے آئے تھے، جبکہ 25 نومبر کو حسن خیل میں گیس پائپ لائن تباہ کرنے والا خوارجی بھی اسی راستے سے پہنچا۔

ماضی میں خارجی حکیم اللہ محسود کا مرکز تیراہ میں قائم رہا اور حالیہ حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی اسی نیٹ ورک سے وابستہ پائے گئے ہیں۔ 2014 میں APS حملے کی منصوبہ بندی بھی تیراہ میں موجود خفیہ مراکز میں ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تیراہ میں دہشت گردوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور منشیات کے کاروبار سے جڑے مفادات بھی اس خطے میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلے بھی کہا تھا کہ منشیات اور دہشت گردی میں گہرا تعلق ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیراہ میں بڑھتے گٹھ جوڑ کو ختم نہ کیا گیا تو پشاور اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا