شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے دوحہ فورم میں اپنے خطاب میں اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ میں جاری ہولناک قتل عام سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل خطے کے دیگر ممالک میں بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شامی صدر نے کہا کہ اسرائیل اپنے ہر ناجائز اقدام کو سیکیورٹی خدشات اور دوبارہ 7 اکتوبر جیسا حملہ نہ ہونے دینے کے بہانے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اب ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جو “بھوتوں سے لڑ رہی ہے”۔
احمد الشرع نے بتایا کہ شام نے امن و استحکام کے لیے اسرائیل کو مثبت پیغامات بھیجے، لیکن جواب میں اسرائیل نے انتہائی جارحانہ کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے اب تک شام پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کیے اور 400 سے زیادہ سرحدی دراندازیوں میں ملوث رہا ہے۔
شامی صدر نے ایک بار پھر مطالبہ دہرایا کہ اسرائیل جنوبی شام کے گولان کے ان علاقوں سے مکمل انخلا کرے جن پر اس نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر میں قبضہ کیا تھا۔






