بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: اسحاق ڈار

0
698

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کے سندھ طاس معاہدے پر یکطرفہ اقدامات سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں، جبکہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

غیر ملکی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا، جو عالمی قانون اور ویانا کنونشن کے آرٹیکل 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال دریائے چناب کے بہاؤ میں دو مرتبہ غیر معمولی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 سے 15 دسمبر 2025 کے دوران پانی کے بہاؤ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ بھارت نے پیشگی اطلاع کے بغیر دریائے چناب میں پانی چھوڑا اور معاہدے کے تحت ضروری ڈیٹا اور معلومات بھی پاکستان کو فراہم نہیں کی گئیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے باضابطہ سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کیا، تاہم بھارت کا حالیہ طرزعمل پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی واضح مثال ہے۔

اسحاق ڈار نے عالمی برادری کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدامات سے پاکستان کی غذائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اسے منظم انداز میں کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشن گنگا اور رتلے جیسے منصوبے معاہدے کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ بھارت غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور اس کے غیر قانونی استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی آبی جارحیت پاکستان کی سلامتی، معیشت اور عوام کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے، جبکہ بھارت نے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی اور مشترکہ نگرانی کا عمل بھی روک رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یہ آبی اقدامات انسانی بحران کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اسحاق ڈار نے سفارتکاروں کو آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے تنازعات کے حل سے فرار عالمی قوانین کی نفی ہے۔ جون اور اگست 2025 میں ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت کو برقرار قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور دونوں فریق اس کی پاسداری کے پابند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار نے بھی بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے معاہدہ بحال نہ کرنے اور پانی کا رخ موڑنے کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ پانی روکنا یا اس کا رخ موڑنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان یہ معاملہ بارہا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھا چکا ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے، تاہم اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا