وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے بیانیے کا بھرپور اور ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور انہیں اپنا نظریہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں پیغامِ امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کمیٹی کل پشاور کا دورہ کرے گی، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علما سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور یہ پیغام عام کیا جائے گا کہ اسلام امن، رواداری اور بھائی چارے کا دین ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا اسلام ہے جس کے نام پر بھارت سے فنڈنگ لے کر پاکستان میں دھماکے کیے جا رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک منظم مالی نیٹ ورک کے تحت چلائی جا رہی ہے، جبکہ افغان حکومت کے بھارت سے مسلسل روابط بھی تشویشناک ہیں۔ آئے روز فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کے عزائم کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور ہر سطح پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی میں اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایک بااختیار کمیٹی ہے جو دہشت گردی کے بیانیے کا مؤثر جواب دے گی اور معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔






