اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، گل پلازہ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

0
336

آگ کیسے لگی اور حادثہ کیسے سانحے میں بدلا؟

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے انسانی سانحے میں تبدیل ہوگئی۔ ابتدائی طور پر آگ ایک دکان سے بھڑکی، مگر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث اس نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔

۔ 26میں سے 24 دروازے بند، ایمرجنسی ایگزٹ ناپید

متاثرہ دکانداروں کے مطابق گل پلازہ میں کل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، تاہم رات 10 بجے کے بعد معمول کے مطابق 24 دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور صرف 2 دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ سانحے کے وقت بھی یہی صورتحال تھی، جس کے باعث لوگ عمارت میں پھنس گئے۔

اندھیرا اور دھواں، سانس لینا بھی مشکل

عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، جس کے باعث عمارت مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی۔ چند ہی لمحوں میں ہر طرف دھواں پھیل گیا اور محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

بھگدڑ، بے ہوشی اور اپنی مدد آپ

دکانداروں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کئی افراد دم گھٹنے کے باعث بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس دوران دکانداروں اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعدد افراد کو عمارت سے باہر نکالا، تاہم بند راستوں کے باعث کئی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری

ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 76 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

فائر سیفٹی قوانین پر سنگین سوالات

سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر بڑے تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس اور حفاظتی قوانین پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن پر عمل درآمد نہ ہونے کی قیمت قیمتی انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی گئی۔

دکانداروں کے مطابق جب آگ بھڑکی تو عمارت میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ بیشتر دروازے بند ہیں، کوئی باقاعدہ ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔ چند ہی لمحوں میں پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی جس سے لوگوں کو راستہ دکھائی دینا بھی ممکن نہ رہا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، اندھیرے اور دھوئیں کے باعث لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔ بھگدڑ مچ گئی اور دھوئیں کے باعث محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران دکانوں میں موجود ورکرز اور گاہک بھی پھنس گئے۔

متاثرہ دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ ہی دیر بعد کئی افراد دم گھٹنے کے باعث بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ ایسے میں دکانداروں اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعدد افراد کو عمارت سے باہر نکالنے کی کوشش کی، تاہم محدود راستوں اور شدید دھوئیں کے باعث کئی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

یاد رہے کہ گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ریسکیو ادارے ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جب کہ 76 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ سانحہ ایک بار پھر بڑے تجارتی مراکز میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور فائر سیفٹی قوانین پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، جن کا بروقت اور مؤثر حل آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا