واشنگٹن: ایران جنگ پر صدارتی اختیار متنازع، کانگریس میں فیصلہ کن بحث متوقع

0
454

واشنگٹن میں ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر امریکی صدر کے اختیارات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں قانون کے مطابق 60 دن کی مدت مکمل ہونے کے بعد اب معاملہ کانگریس کے دائرہ اختیار میں آ گیا ہے۔

امریکی قانون ’’وار پاورز ایکٹ‘‘ کے تحت صدر کو کسی بھی جنگی کارروائی کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی ہوتی ہے، اور یہ ڈیڈ لائن آج ختم ہو چکی ہے۔ اس کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا امریکا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھے گا یا نہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دی گئی ہے، اس لیے عملی طور پر جنگ ختم ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق 7 اپریل کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی جھڑپ یا فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد صورتحال مکمل طور پر پرسکون ہے، اس لیے صدر کو کانگریس سے نئی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق وار پاورز ایکٹ کا اطلاق صرف فعال جنگی صورتحال پر ہوتا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں جنگ ختم تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے بھی صدر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے اختتام اور کانگریس سے منظوری لینے کے وقت کا تعین وائٹ ہاؤس خود کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 60 دن کی قانونی مدت اب مؤثر نہیں رہی کیونکہ جنگی سرگرمیاں رک چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں حتمی اختیار انتظامیہ کے پاس ہے اور کانگریس کی مداخلت ضروری نہیں، جب تک کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے صدر کے اختیارات محدود کرنے کی ایک اور کوشش کی، تاہم وہ بھی ناکام ہو گئی۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر Adam Schiff کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد سینیٹ میں مسترد کر دی گئی۔

یہ قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے ناکام ہوئی، جس کا مقصد صدر کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کا پابند بنانا تھا۔

ڈیموکریٹس کا مؤقف تھا کہ کانگریس کو نظر انداز کر کے جنگی فیصلے کرنا آئینی حدود سے تجاوز ہے، جبکہ ریپبلکن اراکین نے صدر کے اختیارات کا دفاع کیا اور قرارداد کی مخالفت کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک جانب کانگریس اپنے آئینی کردار پر زور دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس جنگ بندی کو بنیاد بنا کر صدارتی اختیار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے یا جنگی کارروائیاں شروع ہوتی ہیں تو صدر کو لازمی طور پر کانگریس سے منظوری لینا پڑے گی، بصورت دیگر یہ ایک بڑا آئینی تنازع بن سکتا ہے۔

فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، جہاں بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، لیکن سیاسی سطح پر اختیارات کی کشمکش نے امریکی پالیسی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا