اسلام آباد: پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں خامیاں، ریفائنریز کو غیر معمولی منافع، عوام پر بوجھ برقرار

0
386

اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں ایک بڑے تضاد کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث مقامی ریفائنریز کو غیر معمولی (ونڈ فال) منافع حاصل ہو رہا ہے جبکہ صارفین پر مالی بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت رواں ماہ کے آغاز میں قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کر چکی ہے۔

تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق مارچ اور اپریل 2026 کے سرکاری اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں اور خام تیل کے بینچ مارکس کے درمیان نمایاں فرق برقرار رہا، جس نے ریفائنریز کو اضافی منافع کمانے کا موقع فراہم کیا۔ اس صورتحال نے حکومتی ریگولیٹری اقدامات کی مؤثریت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں امپورٹ پیریٹی پرائسنگ (IPP) کے تحت عالمی مارکیٹ سے منسلک کی جاتی ہیں۔ اس نظام کے تحت ریفائنریز کو بین الاقوامی بینچ مارکس کی بنیاد پر ایکس ریفائنری قیمتیں دی جاتی ہیں، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ٹیکسز اور دیگر اخراجات شامل کر کے حتمی ریٹیل قیمت کا تعین کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ریفائنریز کی آمدنی کا انحصار ’’کریک اسپریڈ‘‘ پر ہوتا ہے، یعنی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق۔ مارچ 2026 میں یہ فرق غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جس سے قیمتوں میں بگاڑ پیدا ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ڈیزل کی اوسط عالمی قیمت 193.96 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ عرب لائٹ خام تیل 108.45 ڈالر فی بیرل تھا، جو تقریباً 180 فیصد کا فرق بنتا ہے۔ تاریخی رجحان کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 124.72 ڈالر فی بیرل ہونی چاہیے تھی، مگر اضافی مارجن 69.24 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جو مقامی سطح پر تقریباً 121 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔

مزید یہ کہ 30 مارچ کو یہ فرق عروج پر پہنچ گیا، جب ڈیزل کی قیمت 250.63 ڈالر فی بیرل جبکہ خام تیل 113.69 ڈالر فی بیرل رہا، یعنی تقریباً 220 فیصد کا فرق۔ اندازوں کے مطابق صرف مارچ میں ریفائنریز نے تقریباً 60 ارب روپے کا اضافی منافع کمایا، جس میں سے 25 ارب روپے آخری ہفتے میں حاصل ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس غیر معمولی فرق کا علم ہونے کے باوجود بروقت اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں پورا بوجھ صارفین پر منتقل ہو گیا۔

بعد ازاں بڑھتی تنقید کے پیش نظر اپریل میں حکومت نے تین ماہ کے لیے عارضی طور پر ’’کاسٹ پلس‘‘ پرائسنگ ماڈل متعارف کرایا، جس میں امپورٹ پیریٹی نظام کی جگہ ڈیزل کی قیمت دبئی خام تیل کے ساتھ 52.89 ڈالر کے مقررہ کریک اسپریڈ کی بنیاد پر طے کی گئی۔

تاہم، نئی پالیسی کے باوجود مکمل بہتری نہ آ سکی۔ اپریل میں ڈیزل کی اوسط قیمت 189.27 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ خام تیل 115.06 ڈالر فی بیرل تھا، جو تقریباً 164 فیصد کا فرق ظاہر کرتا ہے۔ اس حساب سے بھی تقریباً 56.95 ڈالر فی بیرل یا 100 روپے فی لیٹر اضافی مارجن برقرار رہا۔

نظرثانی شدہ فارمولے کے تحت ڈیزل کی قیمت 277.10 روپے فی لیٹر رہی، جو سابقہ نظام کے مقابلے میں کم ضرور تھی، لیکن خام تیل کی بنیاد پر متوقع قیمت 232.22 روپے فی لیٹر سے اب بھی نمایاں زیادہ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین اب بھی تقریباً 30 روپے فی لیٹر اضافی ادا کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو اپریل کے آغاز میں ہی اس مسئلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم میڈیا میں معاملہ آنے کے بعد ہی عملی اقدامات کیے گئے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اصلاحات ناکافی ہیں اور ریفائنریز کو اب بھی اضافی منافع حاصل ہو رہا ہے۔

مالیاتی رپورٹس بھی اس رجحان کی تصدیق کرتی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں شامل چار بڑی ریفائنریز نے جنوری سے مارچ 2026 کے دوران مجموعی طور پر 72.2 ارب روپے منافع ظاہر کیا، جو اس سے پہلے کے چھ ماہ میں 27.3 ارب روپے تھا۔ اس نمایاں اضافے کی بڑی وجہ مارچ میں ڈیزل کے بلند مارجن کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اصلاحات کا اطلاق ماضی سے کرنا چاہیے تھا تاکہ اضافی منافع کی ریکوری ممکن ہو سکے، تاہم اس کے برعکس قیمتوں میں مزید اضافہ کر کے بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا۔

حالیہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم قیمتوں کے نظام پر ازسرنو نظرثانی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مقامی ایندھن کی قیمتوں کو خام تیل کے بینچ مارکس سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے اور ریفائنریز کے غیر معمولی منافع کو محدود کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا