لاہور(طلوع نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز سمیت دیگر ملزمان کو منی لانڈرنگ کیس میں بری کر دیا گیا۔سلمان شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ایف آئی اے سنٹرل کورٹ لاہور ہوئی۔
عدالت نے 27 سوالات سے متعلق جوابات طلب کر رکھے تھے جنہیں پیر کو جمع کروا دیا گیا۔کمرہ عدالت میں سلیمان شہباز اور دیگر ملزمان سمیت تفتیشی آفیسر ایڈیشنل ڈایکٹر شاہد حسن بھی موجود تھے۔منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہے، فاضل جج نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہے؟۔پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ اس میں بد نیتی کسی کی بھی نہیں ہے۔
عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے ریکارڈ سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کون سا آفیسر ریکارڈ فراہم کرتا رہا؟۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ شہزاد اکبر ڈائریکٹر کی سطح پرملاقات کے لیے آتے تھے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اب جو بندہ مر گیا ہے آپ اس پر سب کچھ ڈال رہے ہیں۔بعدازاں خصوصی سینٹرل عدالت نے سلمان شہباز کو ایف آئی اے منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بری کر دیا۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف ان کے بیٹے وزیراعلی پنچاب حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا. وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف نومبر 2020 میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔
عدالت نے سلمان شہبار کی عدم پیشی پر سلمان شہباز اور ان کے ساتھ شریک ملزم طاہر نقوی کواشتہاری قرار دے دیاتھا۔ عدالت نے اس سے پہلے دو ملزموں کے پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا. اس سے پہلے عدالت نے 28 مئی کو وزیر اعظم کے بیٹے اور دو شریک ملزموں طاہر نقوی اور ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔






