پمز سانحہ کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات ناقص ہونے کا انکشاف

0
398

اسلام آباد: پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات کی صورتحال سامنے آگئی۔

اسپتال ذرائع کے مطابق کراچی کے عباسی شہید اسپتال میں صرف 13 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں، جبکہ عملے کو فائر ڈرل یا فائر سیفٹی سے متعلق باقاعدہ تربیت بھی نہیں دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال میں فائر الارم سسٹم نصب نہیں جبکہ ہنگامی اخراج کے لیے بھی کوئی مخصوص راستہ موجود نہیں۔ اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ سیکڑوں جبکہ او پی ڈی میں ایک ہزار سے زائد مریض آتے ہیں۔

عباسی شہید اسپتال کے 2 جنریٹرز میں سے ایک بیک اپ کے لیے مختص ہے۔ اسپتال کے ایم ایس نے بتایا کہ فائر سیفٹی سسٹم سے متعلق مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب جناح اسپتال کے ہر وارڈ میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہونے کے باوجود متعدد آلات غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں آخری فائر ڈرل 2017 میں ہوئی تھی جبکہ اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی نصب نہیں ہے۔

جناح اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق اسپتال میں فائر فائٹنگ ٹیم تشکیل دی جانی ہے اور عملے کی مزید تربیت کے لیے سندھ حکومت کو خط لکھا جائے گا۔

ادھر سول اسپتال میں 180 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں اور ہر وارڈ میں فائر ایکسٹنگوشر فراہم کیا گیا ہے، تاہم اسپتال ذرائع کے مطابق یہاں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات مثالی قرار نہیں دیے جاسکتے۔

پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر الارم سسٹم اور عملے کی تربیت کے انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا