پمز سانحہ، کوئی چیز نہیں چھپے گی، تمام شواہد سامنے لائیں گے، مصطفیٰ کمال

0
240

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے پر خود کو احتساب کے لیے وزیراعظم کے سامنے پیش کردیا۔

پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واقعے میں جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

استعفے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا ہے، وزیراعظم ان کے باس ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، انہیں قبول ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز اسپتال کے دوسرے دروازے پر 24 گھنٹے سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے۔ ان کے مطابق اس دروازے پر گارڈ کی تعیناتی نومولود بچوں کی چوری کے واقعات کے باعث کی گئی تھی، جبکہ انخلا کے راستے پر بھی گارڈ کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئرکنڈیشن کے قریب اسپارک نظر آیا، جبکہ 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو وہاں سے بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے سے متعلق کوئی چیز نہیں چھپائی جائے گی اور تمام شواہد سامنے لائے جائیں گے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ دو سے تین روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایئرپورٹ سے براہ راست پمز اسپتال پہنچے ہیں اور یہاں سے وزیراعظم کے پاس جائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا