نیٹ امتحانی اسکینڈل، بھارتی نوجوانوں نے مودی حکومت کے خلاف پھر احتجاج کا اعلان کردیا

0
351

نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کے خلاف ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سی جے پی نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک نوجوانوں کے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ مرکزی حکومت نے ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جن کی بنیاد پر 25 جولائی کو طلبہ کی احتجاجی تحریک ختم کی گئی تھی۔

سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مجوزہ مارچ کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی حکومت کی جانب سے نوجوان مظاہرین اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے انحراف قبول نہیں کرے گی۔

سورو داس کے مطابق پارٹی کو اب وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر اعتماد نہیں رہا کہ وہ 25 جولائی کو طلبہ سے کیے گئے وعدے پورے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ورکنگ کمیٹی نے بھی حکومت کی نیت پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

سی جے پی ترجمان نے بتایا کہ احتجاجی مارچ کی قیادت خودکشی کرنے والے نیٹ طلبہ کے اہل خانہ اور 20 جولائی کو پولیس کارروائی سے متاثر ہونے والے افراد کریں گے۔

واضح رہے کہ سی جے پی کی احتجاجی تحریک امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نیٹ یو جی کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف 20 جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوئی تھی، جو بعد ازاں بھارت کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔

20 جولائی کو سی جے پی کی قیادت میں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تھا، جس پر پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

احتجاجی تحریک 25 جولائی کو اس وقت ختم ہوئی جب حکومت نے سی جے پی کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد ان کے بعض مطالبات تسلیم کیے۔ ان میں خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ اور مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا