جماعت اسلامی، پی ٹی آئی کے متوقع احتجاجات اور حکومتی حکمت عملی

0
759
سندر شعیب ایڈووکیٹ

سندر شعیب ایڈووکیٹ

پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر احتجاجی سیاست کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں میں تیزی، کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں اور اسلام آباد کی طرف ممکنہ احتجاجی پیش قدمی نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت بھی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتظامی، قانونی اور سیاسی سطح پر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جماعت اسلامی کی سیاسی پوزیشن بھی اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ ملک میں اپوزیشن کی سرگرمیاں بڑھنے کی صورت میں اس کے فیصلے سیاسی منظرنامے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے لیے احتجاجی سیاست کوئی نئی حکمت عملی نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پارٹی نے جلسوں، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاجی تحریکوں کے ذریعے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ احتجاجی سرگرمیوں کو بھی پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق معاملات کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ اس کے سیاسی کارکنوں اور قیادت کو سیاسی میدان میں مساوی مواقع ملنے چاہئیں اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔تاہم اس احتجاج کی کامیابی صرف کارکنوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی طے ہوگی کہ پی ٹی آئی احتجاج کو کس حد تک منظم، پرامن اور مسلسل رکھ پاتی ہے۔

ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ احتجاج کا اعلان کرنا نسبتاً آسان، لیکن اسے طویل عرصے تک سیاسی دباؤ میں تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو وسیع عوامی حمایت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر احتجاج محدود رہتا ہے یا اس میں تصادم پیدا ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔یہاں جماعت اسلامی کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ جماعت اسلامی ملک کی ان سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جو اپنی الگ سیاسی شناخت رکھتی ہیں اور مختلف مواقع پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ سیاسی کشمکش میں کس حد تک پی ٹی آئی کے قریب آتی ہے اور کہاں اپنی الگ سیاسی پوزیشن برقرار رکھتی ہے۔جماعت اسلامی اگر پی ٹی آئی کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے تو اپوزیشن کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اس فیصلے کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ جماعت اسلامی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مفادات، عوامی مسائل اور احتجاجی سیاست کے درمیان توازن قائم کرے۔ دوسری طرف اگر جماعت اسلامی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پر زور دیتی ہے تو وہ ایک ایسے سیاسی کردار کی طرف بڑھ سکتی ہے جس میں وہ فریق بننے کے بجائے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔

حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے۔ اسلام آباد ملک کا سیاسی اور سفارتی مرکز ہے۔ یہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا احتجاج نہ صرف حکومتی سرگرمیوں بلکہ سفارتی مشنز، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی آمدورفت کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ حکومت یقیناً کسی احتجاج کو اہم سرکاری عمارتوں یا حساس علاقوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے گی، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کی شدت کتنی ہوگی۔ریاستی رٹ قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے غیر معمولی سختی بعض اوقات مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اگر سڑکیں طویل عرصے تک بند رہیں، کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوں یا احتجاجی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم پیدا ہو تو سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں حکومت کو نہ صرف داخلی سیاسی تنقید بلکہ انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج آئینی حق ضرور ہے لیکن یہ حق قانون کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر احتجاج پرامن رہتا ہے تو سیاسی مطالبات زیادہ مؤثر انداز میں عوام اور ریاست کے سامنے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے، پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا ہے یا شہریوں کی زندگی معمول سے ہٹ جاتی ہے تو حکومت کو کارروائی کا جواز مل سکتا ہے اور احتجاج کا بنیادی سیاسی مقصد بھی پس منظر میں چلا جاتا ہے۔یہ صورتحال جماعت اسلامی کے لیے ایک اہم سیاسی موقع بھی ہوسکتی ہے۔ اگر وہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا سیاسی کردار نمایاں ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی بحرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ سیاسی فریق اکثر ایک دوسرے سے بات چیت کے بجائے سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس طرز سیاست سے وقتی طور پر کسی فریق کو سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن طویل مدت میں ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔حکومت کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ احتجاج کو صرف انتظامی مسئلہ سمجھا جائے یا اسے سیاسی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ پولیس، رینجرز اور انتظامیہ امن و امان قائم کرسکتے ہیں، مگر سیاسی مطالبات کا جواب سیاسی مذاکرات ہی دے سکتے ہیں۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہر احتجاج انتظامی طاقت سے ختم کیا جاسکتا ہے تو اس سے سیاسی کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔حکومت کے لیے بہتر راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ احتجاج سے قبل سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز کیا جائے۔ پی ٹی آئی کے جائز آئینی مطالبات پر بات کی جائے اور جو معاملات عدالتوں یا قانونی فورمز سے متعلق ہیں انہیں سیاسی تنازع بنانے کے بجائے آئینی اداروں پر چھوڑا جائے۔ اس کے ساتھ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہوگی، لیکن قانون شکنی، سرکاری املاک کو نقصان اور شہریوں کے حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پی ٹی آئی کے لیے بھی مذاکرات کا راستہ بند کرنا سیاسی طور پر فائدہ مند نہیں ہوگا۔ احتجاج سیاسی دباؤ پیدا کرسکتا ہے، لیکن ہر سیاسی بحران کا مستقل حل سڑکوں پر نہیں نکلتا۔ اگر پارٹی اپنے احتجاج کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی برقرار رکھتی ہے تو اس سے اسے ایک ذمہ دار سیاسی قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو خیبر پختونخوا بھی ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی قوت وہاں نمایاں ہے اور اگر صوبے سے کارکن بڑی تعداد میں اسلام آباد کی طرف آتے ہیں تو حکومت کے لیے انتظامی چیلنج بڑھ سکتا ہے۔

وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے ہی سیاسی اختلافات موجود ہیں، اس لیے کسی احتجاج کے موقع پر دونوں حکومتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ وفاقی اور صوبائی تعلقات کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی صورتحال میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان براہ راست تصادم سے بچنا بھی ضروری ہوگا۔جماعت اسلامی اگر اس مرحلے پر سیاسی مفاہمت کے لیے کردار ادا کرتی ہے تو اسے اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اسے حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کا حق بھی ہے اور اپوزیشن کی حکمت عملی سے اختلاف کا بھی۔ لیکن اگر وہ مذاکرات، آئینی بالادستی اور پرامن سیاسی سرگرمی کو اپنا بنیادی مؤقف بناتی ہے تو اس کی سیاست کو ایک وسیع تر عوامی قبولیت مل سکتی ہے۔پاکستان اس وقت معاشی مشکلات، علاقائی کشیدگی، داخلی سلامتی اور سیاسی عدم استحکام جیسے کئی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے حالات میں مسلسل احتجاج اور تصادم معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے اور عام شہری سب سے زیادہ مشکلات برداشت کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلاف رائے، احتجاج، مذاکرات اور برداشت کا مجموعہ ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے اور اپوزیشن کو حکومت کی ریاستی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اگر دونوں جانب سے آئینی حدود برقرار رہیں تو سیاسی اختلاف کسی بحران میں تبدیل ہونے کے بجائے جمہوری عمل کا حصہ رہ سکتا ہے۔موجودہ صورت حال میں سب سے بہتر حکمت عملی تصادم سے گریز اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنا ہے۔ حکومت اگر سیاسی دروازے کھلے رکھتی ہے، پی ٹی آئی اگر احتجاج کو مکمل طور پر پرامن رکھتی ہے اور جماعت اسلامی اگر مفاہمت کے لیے مؤثر کردار ادا کرتی ہے تو سیاسی درجہ حرارت کم کیا جاسکتا ہے۔آخرکار پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل نہ سڑکوں کی طاقت میں ہے اور نہ انتظامی سختی میں۔ حل آئین، پارلیمان، عدالتوں، مذاکرات اور سیاسی برداشت کے اندر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ حکومت کو ریاستی رٹ برقرار رکھنی ہے، پی ٹی آئی کو سیاسی احتجاج کا حق استعمال کرنا ہے اور جماعت اسلامی کو اپنی سیاسی قوت کو مفاہمت کے لیے استعمال کرنے کا موقع حاصل ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر تصادم کے راستے پر جاتی ہے یا سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکالتی ہیں جس سے ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری عمل دونوں مضبوط ہوسکیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا