آسمان بُھٹہ
مصنف اوٹاوا یونیورسٹی کینیڈا میں قانون کے طالب علم ہیں
اسرائیل کے 27 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات نے ملک کو فوری سیاسی فیصلے کے بجائے ایک مشکل حکومت سازی کے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ابتدائی ایگزٹ پولز میں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، مگر ان کے اتحادی بلاک کو پارلیمان میں اکثریت ملتی دکھائی نہیں دی۔ دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو قدرے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر ہوا، لیکن وہ بھی حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت سے پیچھے رہا۔ یوں فی الحال انتخابی رات کا بنیادی نتیجہ کسی ایک رہنما کی فتح نہیں بلکہ ایک معلق پارلیمان اور طویل مذاکرات کا امکان ہے۔ حتمی سرکاری نتائج آنے تک ایگزٹ پولز کو ابتدائی تخمینہ ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ انتخاب اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد غزہ اور خطے میں ہونے والی جنگوں کے بعد پہلا قومی پارلیمانی انتخاب تھا۔ اس لیے ووٹ صرف جماعتوں یا امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں تھا؛ بہت سے ووٹروں کے لیے یہ حکومت کی سکیورٹی پالیسی، جنگ کے انتظام، فوجی تیاری اور ملک کے مستقبل پر رائے دینے کا موقع بھی تھا۔ انتخابی مہم میں اس سوال نے مرکزی حیثیت اختیار کی کہ آیا نیتن یاہو کی حکومت کو مزید وقت دیا جائے، یا قیادت تبدیل کرکے حکومتی فیصلوں کا نیا جائزہ لیا جائے۔
ایگزٹ پولز کیا بتاتے ہیں؟
اسرائیل میں ووٹر براہِ راست وزیرِاعظم کا انتخاب نہیں کرتے۔ وہ قومی سطح پر جماعتوں کی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں، اور پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنے والی جماعتیں بعد میں حکومت بنانے کے لیے اتحاد کرتی ہیں۔ انتخابی رات اسرائیلی ٹی وی چینلوں کے ایگزٹ پولز میں لیکود کے 24 یا 25 نشستیں لینے اور آئزنکوٹ کی جماعت یاشار کو 21 یا 22 نشستیں ملنے کا تخمینہ سامنے آیا۔ یاشار کی جماعت خود لیکود سے چھوٹی دکھائی دی، مگر آئزنکوٹ کے ساتھ کھڑی جماعتوں کا مجموعی اتحاد نیتن یاہو کے بلاک سے آگے رہا۔مختلف چینلوں کے اندازوں میں معمولی فرق تھا۔ بعض نے آئزنکوٹ کے مخالفِ نیتن یاہو اتحاد کو 52، جبکہ بعض نے 53 نشستیں دیں؛ نیتن یاہو کے بلاک کے لیے قریب 50 نشستوں کا اندازہ لگایا گیا۔ عرب جماعتوں کے لیے 17 سے 18 نشستوں کا امکان ظاہر ہوا۔ کسی بھی اندازے میں روایتی دونوں سیاسی بلاک اکیلے 61 نشستوں کی اکثریت تک نہیں پہنچے۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے: سب سے بڑی جماعت بننا اور حکومت بنانے کے قابل ہونا ایک ہی بات نہیں۔ لیکود کو سب سے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان تھا، لیکن اگر اس کے اتحادیوں کی مجموعی تعداد اکثریت سے کم رہتی ہے تو نیتن یاہو کو دوسری جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ اسی طرح اپوزیشن بلاک کا لیکود سے بڑا ہونا آئزنکوٹ کے لیے بھی خودکار طور پر وزیرِاعظم بننے کی ضمانت نہیں؛ انہیں ایسی پارلیمانی حمایت جمع کرنا ہوگی جو حکومت کو اعتماد کا ووٹ دلوا سکے۔
ٹرن آؤٹ اور انتخابی دن
انتخابی دن ووٹرز کی شرکت غیر معمولی طور پر بلند رہی۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق شام آٹھ بجے تک ٹرن آؤٹ 74.3 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو 2022 کے انتخابات میں اسی وقت کی شرح سے زیادہ اور گزشتہ انتخاب کے مجموعی 70.6 فیصد ٹرن آؤٹ سے بھی آگے تھا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ مقابلے کو ووٹروں نے سنجیدگی سے لیا؛ البتہ بلند ٹرن آؤٹ بذاتِ خود کسی ایک سیاسی اتحاد کی جیت ثابت نہیں کرتا۔انتخابی دن بعض جماعتوں نے پولنگ مراکز میں بیلٹ پیپرز کے غائب یا خراب ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کی شکایات کیں۔ مرکزی انتخابی کمیٹی نے کہا کہ اسے منظم پیمانے پر انتخابی چھیڑ چھاڑ کا ثبوت نہیں ملا اور موصول ہونے والی انفرادی شکایات سے نمٹا جا رہا ہے۔ پولیس نے رام جماعت کے تین کارکنوں کو ووٹ خریدنے کے شبہے میں گرفتار کیا۔ تل ابیب میں ڈیموکریٹس جماعت کے رہنما یائر گولان کے قریب چاقو رکھنے والے شخص کو حراست میں لیا گیا، تاہم پولیس کے مطابق حملہ نہیں ہوا۔ ان واقعات نے دن کے سیاسی تناؤ میں اضافہ کیا، مگر انہیں انتخابی نتیجے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکومت کیسے بنے گی؟
اسرائیلی پارلیمان کو کنیسٹ کہا جاتا ہے اور اس کی کل 120 نشستیں ہیں۔ حکومت کو پارلیمان میں اعتماد قائم رکھنے کے لیے کم از کم 61 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اسرائیل کا انتخابی نظام متناسب نمائندگی پر مبنی ہے: جماعت کو ملک بھر میں حاصل ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں، بشرطیکہ وہ قومی ووٹوں کی کم از کم 3.25 فیصد حد عبور کرے۔ اس حد کے باعث کسی جماعت کے ووٹ اتنے کم ہوں کہ وہ پارلیمان میں داخل نہ ہوسکے، تو اس کے ووٹرز کے ووٹ نشستوں کی تقسیم میں براہِ راست شمار نہیں ہوتے۔ ایکسیوس کی انتخابی وضاحت سرکاری نتائج اور نشستوں کی تقسیم حتمی ہونے کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ منتخب جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے۔ اس مرحلے میں صدر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سا رکنِ کنیسٹ حکومت بنانے کے لیے سب سے زیادہ حمایت حاصل کرسکتا ہے۔ صدر عموماً اسی امیدوار کو حکومت سازی کی ذمہ داری دیتے ہیں جس کے پاس اکثریت جمع کرنے کا بہتر امکان ہو؛ یہ فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کس جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔نامزد امیدوار کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے مقررہ وقت ملتا ہے۔ اے پی کے مطابق، امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ہفتوں تک مہلت مل سکتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں وہ اپنی کابینہ، حکومتی پروگرام اور اتحادیوں کے ساتھ طے شدہ پالیسی نکات کنیسٹ کے سامنے پیش کرے گا۔ کنیسٹ کے اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد ہی نئی حکومت باقاعدہ کام شروع کرسکے گی۔اگر پہلے نامزد امیدوار مطلوبہ اکثریت نہ بنا سکے تو دوسرے رہنماؤں کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ اس دوران چھوٹی جماعتوں کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے، کیونکہ چند نشستیں بھی کسی ایک بلاک کو 61 تک پہنچا سکتی ہیں۔ ایسی جماعتیں وزارتوں، بجٹ، قانون سازی یا مخصوص پالیسیوں سے متعلق مطالبات مذاکرات میں رکھ سکتی ہیں۔ چنانچہ حکومت سازی کا فیصلہ انتخابی رات کے اعداد سے زیادہ ان سیاسی وعدوں اور سمجھوتوں پر منحصر ہوگا جو بعد کے دنوں میں طے پائیں گے۔
عرب جماعتوں کا ممکنہ کردار
ایگزٹ پولز میں عرب جماعتوں کے لیے 17 سے 18 نشستوں کا اندازہ انہیں پارلیمانی حساب میں اہم مقام دیتا ہے۔ وہ نیتن یاہو کی مخالفت کرتی ہیں، لیکن انہیں آئزنکوٹ کے ممکنہ حکومتی اتحاد کا باقاعدہ حصہ بنانا سیاسی طور پر حساس ہوسکتا ہے۔ آئزنکوٹ اور نیتن یاہو دونوں پہلے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے انکار کرچکے ہیں، تاہم عرب جماعتیں کسی حکومت کو باہر سے اعتماد کا ووٹ دے سکتی ہیں یا کسی اہم ووٹنگ میں غیر حاضر رہ کر اس کے قیام میں مدد دے سکتی ہیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ امکان بھی زیرِ بحث آسکتا ہے۔یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ آئزنکوٹ کے ممکنہ شراکت داروں میں اختلاف ہوسکتا ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت قبول کی جائے یا نہیں۔ دوسری طرف، ان جماعتوں کے اپنے مطالبات ہوں گے، مثلاً عرب آبادی کے علاقوں میں جرائم اور تشدد پر قابو، عوامی خدمات میں بہتری اور شہری حقوق کے مسائل۔ اگر ان کے ووٹ یا غیر جانب داری کے بغیر اکثریت ممکن نہ ہو تو انہیں نظرانداز کرنا مشکل ہوگا؛ لیکن ان کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے پر دوسرے اتحادی اعتراض کرسکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے لیے کیا داؤ پر ہے؟
نیتن یاہو کا سیاسی وزن صرف ان کی جماعت کی نشستوں سے طے نہیں ہوگا۔ اگر لیکود سب سے بڑی جماعت رہے اور دائیں بازو و مذہبی جماعتوں کے ساتھ اکثریت بنا لے تو وہ اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اگر یہ حساب ممکن نہ ہوا تو لیکود کے اندر قیادت، اپوزیشن میں جانے یا ممکنہ قومی اتحاد جیسے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ان کے حامی انتخابی نتیجے کو اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت قرار دے سکتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے 7 اکتوبر کے سکیورٹی بحران اور حکومت کے طرزِعمل پر عدم اعتماد سمجھیں گے۔آئزنکوٹ کے لیے بھی کامیابی کا راستہ پیچیدہ ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق ان کے اتحاد نے نیتن یاہو کے بلاک سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، مگر 61 کے ہدف تک پہنچنے کے لیے اضافی حمایت ضروری ہے۔ انہیں ایسے شراکت داروں کو ساتھ رکھنا ہوگا جن کے مذہبی، قومی سلامتی، فوجی بھرتی اور فلسطینی شہریوں سے متعلق مؤقف مختلف ہیں۔ اتحاد جتنا متنوع ہوگا، مذاکرات میں اتنی ہی زیادہ رعایتیں اور باہمی ضمانتیں درکار ہوں گی۔
اگر کوئی حکومت نہ بنا سکا
اگر مذاکرات کے بعد بھی کوئی امیدوار 61 نشستوں کی حمایت حاصل نہ کرسکے تو اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جاسکتا ہے۔ ایسے مرحلے میں موجودہ حکومت نئی کابینہ کے قیام تک نگران حکومت کے طور پر کام جاری رکھے گی، مگر بڑے پالیسی فیصلے کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ صورتِ حال اسرائیل کے لیے نئی نہیں: 2019 سے 2022 کے درمیان ملک نے بار بار انتخابات اور حکومت سازی کے تعطل کا سامنا کیا تھا۔اس وقت سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ ابتدائی ایگزٹ پولز نے نیتن یاہو کے لیے اکثریت کا راستہ تنگ اور آئزنکوٹ کے لیے امکان روشن کیا ہے، مگر حکومت سازی کسی کے لیے یقینی نہیں۔ حتمی ووٹوں کی گنتی، چھوٹی جماعتوں کا پارلیمانی حد عبور کرنا، صدر کی مشاورت اور اتحادیوں کے درمیان مذاکرات طے کریں گے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا۔ انتخابی رات نے سمت کا اشارہ دیا ہے؛ فیصلہ ابھی باقی ہے۔





