عمران رشید
آبنائے ہرمز کی اہمیت تیل کی عالمی ترسیل تک محدود نہیں۔ اس کے نیچے سے گزرنے والی زیرِسمندر کیبلز بھی خلیجی مدمالک ک دنیا کے ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑتی ہیں۔ اکتوبر 2026 میں ایران کی جانب سے ان کیبلز کو ممکنہ ہدف قرار دینے کی خبروں نے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ لیکن کیا ایران واقعی انہیں کاٹ سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہوا تو کیا عالمی انٹرنیٹ بند ہو جائے گا؟مختصر جواب یہ ہے کہ کیبل کو نقصان پہنچانا ممکن ہے، مگر یہ نہ آسان کارروائی ہے اور نہ عالمی انٹرنیٹ بند کرنے کا یقینی طریقہ۔ اصل خطرہ خلیجی خطے کے رابطوں میں خلل، متبادل راستوں پر دباؤ اور مرمت میں تاخیر کا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایرانی سکیورٹی عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کریں تو تہران خلیج میں مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبے رکھتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی سات بڑی کیبلز کا ذکر کیا۔ یہ ایک ممکنہ کارروائی سے متعلق دھمکی ہے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حملہ ہو چکا ہے یا اس کا حکم دیا گیا ہے۔ کیبلز کی تعداد کے بارے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انٹرنیشنل کیبل پروٹیکشن کمیٹی کے مطابق آبنائے ہرمز سے پانچ فعال کیبل نظاموں کے حصے گزرتے ہیں، جبکہ کچھ مزید نظام زیرِتعمیر ہیں۔ ایرانی بیان میں ممکن ہے مختلف حصوں یا منصوبہ بند نظاموں کو بھی شمار کیا گیا ہو۔ اس لیے سات کو سات الگ فعال کیبل نظاموں کی تصدیق شدہ تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ کیبلز خلیجی ممالک کے درمیان اور خطے سے باہر ڈیٹا منتقل کرتی ہیں۔ زیرِسمندر فائبر آپٹک کیبلز عالمی ڈیجیٹل رابطوں کا بنیادی حصہ ہیں: ان کے ذریعے بینکاری، کاروباری لین دین، سرکاری رابطے، کلاؤڈ خدمات اور عام انٹرنیٹ ٹریفک گزرتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کا سارا انٹرنیٹ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ عالمی نیٹ ورک میں بہت سے دوسرے سمندری اور زمینی راستے بھی موجود ہیں۔ ITU
اگر کوئی ایک کیبل خراب ہو جائے تو انٹرنیٹ آپریٹرز ڈیٹا کو دستیاب متبادل راستوں پر بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں متبادل گنجائش کافی ہو، وہاں عام صارف کو معمولی یا کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن اگر کئی کیبلز بیک وقت متاثر ہوں، یا متبادل راستوں پر پہلے ہی زیادہ بوجھ ہو، تو رفتار کم ہو سکتی ہے، رابطے میں تاخیر بڑھ سکتی ہے اور بعض خدمات عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔ اثر ہر ملک اور نیٹ ورک پر یکساں نہیں ہوگا؛ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کن راستوں پر کتنا انحصار کرتے ہیں۔سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی کیبل آسانی سے نظر نہیں آتی۔ اسے نصب کرتے وقت سمندری گہرائی اور جہاز رانی جیسے خطرات کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے؛ کم گہرے پانی میں بعض کیبلز کو سمندر کی تہہ کے نیچے دفن بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کیبلز کو نقصان پہنچنا ناممکن نہیں۔ دنیا بھر میں جہازوں کے لنگر اور ماہی گیری کے آلات کیبل خرابی کی عام وجوہ میں شامل ہیں۔جان بوجھ کر کسی کیبل کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کا مقام معلوم کرنا اور وہاں کارروائی کرنا ہوگی۔ جنگی ماحول میں جہازوں کی نقل و حرکت، ملبہ یا دیگر سمندری خطرات بھی کیبلز کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مگر کسی کیبل کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ کارروائی چھپی رہے گی یا اس کے نتائج قابو میں رہیں گے۔ یہ نظام مختلف ملکوں اور کمپنیوں کے زیرِاستعمال ہیں؛ نقصان ایک سے زیادہ ملکوں کے رابطے اور کاروبار متاثر کر سکتا ہے۔کیبل خراب ہونے کے بعد اسے بحال کرنے میں وقت لگتا ہے۔ خصوصی جہاز سمندری تہہ میں خرابی کا مقام تلاش کرتے ہیں، کیبل کو اوپر اٹھاتے ہیں اور پھر خراب حصے کی مرمت یا تبدیلی کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائی، موسم اور مرمتی جہازوں کی دستیابی اس کام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جنگی حالات میں جہازوں اور عملے کی سلامتی کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ITU کی تکنیکی رہنمائی کے مطابق کیبل کی مرمت عموماً ایک سے تین ہفتے لے سکتی ہے، اگرچہ اصل مدت خرابی کے مقام اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر حفاظتی خدشات کے باعث مرمت کا کام رک جائے تو متاثرہ نیٹ ورکس کو زیادہ عرصے تک متبادل راستوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے خطرہ صرف یہ نہیں کہ کیبل کٹ سکتی ہے؛ یہ بھی ہے کہ اسے جلد مرمت کرنا ممکن نہ ہو۔
کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی، کسی کارروائی کے بغیر بھی، کاروباری اور سیاسی دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ٹیلی کام کمپنیاں سمجھیں کہ کسی راستے پر خطرہ بڑھ گیا ہے یا مرمت محفوظ طور پر ممکن نہیں ہوگی، تو انہیں متبادل راستوں اور اضافی گنجائش کا انتظام کرنا پڑے گا۔ اس سے لاگت بڑھے گی اور خطے کے ڈیجیٹل رابطوں کی منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔لیکن یہ دباؤ ایران کے لیے بھی قیمت رکھتا ہے۔ کیبلز کئی ممالک کے رابطے مہیا کرتی ہیں، اس لیے ان پر حملہ صرف ایک حریف کو متاثر نہیں کرے گا۔ اس سے دوسرے خلیجی ممالک اور تجارتی شراکت داروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ متاثرہ کمپنیاں متبادل نیٹ ورک بنا سکتی ہیں، جس سے مستقبل میں اسی گزرگاہ پر انحصار کم ہو جائے گا۔ یوں کیبلز کو نقصان پہنچانا فوری خلل تو پیدا کر سکتا ہے، مگر اس کا اثر مستقل یا مکمل کنٹرول کا ذریعہ نہیں بنے گا۔ایران آبنائے ہرمز کے قریب زیرِسمندر کیبلز کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن ایسا کرنا آسان یا بےخطر نہیں، اور چند کیبلز کٹنے سے عالمی انٹرنیٹ بند نہیں ہوگا۔ زیادہ ممکنہ نتیجہ خلیجی خطے کے بعض نیٹ ورکس میں سست رفتاری، رابطوں میں خلل اور مرمت تک محدود گنجائش کی صورت میں سامنے آئے گا۔اصل امتحان یہ ہوگا کہ متاثرہ ممالک اور ٹیلی کام کمپنیاں ٹریفک کو کتنی جلدی دوسرے راستوں پر منتقل کر سکتی ہیں، اور مرمت کرنے والے جہاز کتنی محفوظ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اسی لیے طویل مدتی حل کیبلز کی حفاظت کے ساتھ متبادل سمندری اور زمینی راستے، اضافی گنجائش اور فوری مرمت کی تیاری بھی ہے۔ عالمی ڈیجیٹل رابطوں کا تحفظ کسی ایک کیبل کو بچانے سے نہیں، بلکہ ایسا نیٹ ورک بنانے سے ممکن ہے جو ایک راستہ متاثر ہونے پر بھی چلتا رہے۔






