پاکستان اور بھارت کیساتھ امریکہ کےتعلقات ،کس کا پلڑا بھاری ؟

0
5

آسمان بھٹہ

مصنف اوٹاوا یونیورسٹی کینیڈا میں قانون کے طالب علم ہیں

امریکہ کے جنوبی ایشیا میں تعلقات کو اکثر پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا مقصد کسی ایک ملک کو مستقل طور پر دوسرے پر ترجیح دینا نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے مطابق ہر ملک سے الگ نوعیت کے تعلقات قائم رکھنا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کی شراکت داری کا دائرہ معیشت، ٹیکنالوجی، دفاع اور بحرالکاہل کی سیاست تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ پاکستان سے تعلقات میں سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، افغانستان اور علاقائی استحکام جیسے معاملات نمایاں رہے ہیں۔ اس لیے یہ سوال کہ کس کا پلڑا بھاری ہے، اس کا جواب تعلقات کے شعبے اور وقت کے تناظر میں دینا زیادہ درست ہے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں مضبوط ہوئے۔

پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں شمولیت اختیار کی اور دونوں ملکوں نے سوویت یونین کے اثرورسوخ کے مقابلے میں تعاون کیا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت کے دوران پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار بنا۔ اس دور میں امریکی امداد اور پاکستانی سرزمین پر افغان مجاہدین کی معاونت نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو گہرا کیا۔تاہم یہ قربت ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ افغانستان سے سوویت انخلا کے بعد واشنگٹن کی ترجیحات بدلیں اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر اختلافات بڑھ گئے۔ 1990 کی دہائی میں امریکی پابندیوں نے تعلقات کو سرد کر دیا۔ 2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد پاکستان دوبارہ امریکہ کے لیے اہم ہوا، کیونکہ افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور تعاون بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔

اس دوران پاکستان کو امداد بھی ملی، لیکن دہشت گردی، سرحدی کارروائیوں اور اعتماد کے فقدان پر اختلافات برقرار رہے۔بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بھی وقت کے ساتھ بدلے۔ سرد جنگ کے دوران بھارت نے غیر جانب دار تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا اور سوویت یونین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات واشنگٹن کے لیے کبھی کبھار تشویش کا باعث بنے۔ بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد امریکہ نے پابندیاں لگائیں، مگر 2000 کی دہائی میں دونوں ملکوں نے تعلقات کی نئی بنیاد رکھی۔ 2005 کے سول نیوکلیئر معاہدے نے اس تبدیلی کی علامت بن کر دکھایا۔ اس کے بعد دفاعی، تجارتی اور سائنسی تعاون میں وسعت آئی۔آج بھارت امریکہ کے لیے کئی وجوہ سے ایک اہم شراکت دار ہے۔ اس کی بڑی آبادی، تیزی سے بڑھتی معیشت، وسیع صارف منڈی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مہارت اسے واشنگٹن کے لیے معاشی طور پر پرکشش بناتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ امریکی کمپنیوں کے لیے بھارت ایک بڑی منڈی ہے، جبکہ بھارتی پیشہ ور افراد، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور طب کے شعبوں میں، امریکہ کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

دفاع اور علاقائی حکمتِ عملی بھی بھارت کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔ امریکہ بھارت کو بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں ایک مؤثر طاقت اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے میں اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور انٹیلی جنس تعاون بڑھا ہے۔ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ کواڈ فورم میں بھارت کی شمولیت بھی اس کی علاقائی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس فورم کا مقصد خطے میں تعاون اور آزاد و کھلے بحری راستوں کی حمایت ہے۔بھارت اور امریکہ ہر معاملے پر متفق نہیں۔ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں تزویراتی خودمختاری کو اہم سمجھتا ہے اور روس کے ساتھ دفاعی و توانائی روابط بھی برقرار رکھتا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد روسی تیل کی خریداری اور بعض عالمی معاملات پر بھارت کا موقف واشنگٹن سے مختلف رہا۔

اس کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات عمومی طور پر مضبوط ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے مشترکہ مفادات اختلافات پر غالب آتے ہیں۔پاکستان کا امریکہ کے لیے کردار بھارت سے مختلف ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین، ایران اور افغانستان کے سنگم پر اہم بناتی ہے۔ افغانستان میں امریکی مداخلت کے دوران پاکستان کی سرزمین، رسد کے راستے اور سفارتی اثرورسوخ واشنگٹن کے لیے خاص اہمیت رکھتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں نے تعاون کیا، اگرچہ اس تعاون کے نتائج اور دونوں جانب کے اعتماد پر شدید اختلافات بھی رہے۔افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان کی فوری تزویراتی اہمیت میں کمی آئی، لیکن اس کا کردار ختم نہیں ہوا۔

امریکہ اب بھی پاکستان کے جوہری تحفظ، انسدادِ دہشت گردی، علاقائی استحکام، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی بحالی جیسے معاملات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا چین کے ساتھ قریبی تعلق بھی امریکی پالیسی کے تناظر میں اہم ہے۔ واشنگٹن پاکستان سے رابطے رکھنا چاہتا ہے، لیکن پاکستان اور چین کی شراکت داری اور امریکہ چین رقابت کے باعث تعلقات میں پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔پاکستانی عوام اور حکومت کے نزدیک امریکہ سے تعلقات میں ایک دیرینہ مسئلہ یہ رہا ہے کہ واشنگٹن ضرورت کے وقت قریب آتا اور ترجیحات بدلنے پر دور ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں امریکی امداد، ڈرون کارروائیوں، افغانستان کی پالیسی اور بھارت کے ساتھ امریکی قربت پر بحث ہوتی رہی ہے۔ دوسری طرف امریکہ پاکستان سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی، علاقائی کشیدگی کم کرنے اور جوہری سلامتی سے متعلق ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کرتا ہے۔ ان توقعات میں فرق نے تعلقات کو اکثر اتار چڑھاؤ کا شکار رکھا ہے۔اگر سوال یہ ہو کہ امریکہ اس وقت کس ملک کے ساتھ زیادہ وسیع اور مستقبل پر مبنی شراکت داری رکھتا ہے، تو بھارت کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ بھارت کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات صرف سلامتی تک محدود نہیں۔

ان میں تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، تعلیم، خلائی تحقیق اور دفاع جیسے متعدد شعبے شامل ہیں۔ بھارت کی معاشی وسعت اور چین کے بارے میں مشترکہ خدشات نے اسے امریکی حکمتِ عملی میں نمایاں مقام دیا ہے۔اس کے باوجود پاکستان کو غیر اہم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات اگرچہ بھارت جیسے وسیع یا طویل مدتی معاشی شراکت داری پر مبنی نہیں، لیکن سلامتی اور علاقائی استحکام کے معاملات میں اس کی اہمیت برقرار ہے۔ کسی بحران، افغانستان میں تبدیلی، دہشت گردی کے خطرے یا جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے وقت پاکستان کا کردار دوبارہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا مؤثر سفارتی وزن اس بات پر بھی منحصر ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرے، داخلی سیاسی استحکام پیدا کرے اور عالمی سطح پر واضح و مستقل پالیسی اپنائے۔بھارت کی بڑھتی اہمیت بھی بے حد نہیں۔ امریکہ بھارت کو شراکت دار سمجھتا ہے، اتحادی نہیں۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے، چاہے وہ واشنگٹن کی ترجیحات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ اسی طرح امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور تجارتی اختلافات جیسے معاملات اٹھاتا رہتا ہے۔

لہٰذا بھارت اور امریکہ کے درمیان قربت کے باوجود اختلافات موجود ہیں۔امریکہ کے پاکستان اور بھارت سے تعلقات کا موازنہ کرتے وقت صرف امداد یا دفاعی تعاون کو پیمانہ بنانا کافی نہیں۔ بھارت کے ساتھ شراکت داری زیادہ وسیع، معاشی طور پر اہم اور مستقبل کی علاقائی حکمتِ عملی سے جڑی ہوئی ہے؛ اسی بنا پر مجموعی طور پر اس کا پلڑا بھاری ہے۔ پاکستان کی اہمیت زیادہ تر سلامتی، جغرافیے اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات میں نمایاں ہے۔تاہم عالمی تعلقات مستقل نہیں ہوتے۔ ملکوں کی اہمیت ان کی آبادی یا جغرافیے سے ضرور بنتی ہے، لیکن اسے مضبوط کرنے کے لیے مستحکم معیشت، قابلِ اعتماد ادارے، مؤثر سفارت کاری اور مسلسل پالیسی درکار ہوتی ہے۔ پاکستان اگر اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پا کر تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کو ترجیح دے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات کو محض سلامتی کے دائرے سے آگے بڑھا سکتا ہے۔ بالآخر “پلڑا بھاری” ہونا مستقل فیصلہ نہیں؛ یہ بدلتے مفادات اور ریاستوں کے اپنے اقدامات سے طے ہوتا رہتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا