برازیلیہ، تل ابیب: برازیل نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے دونوں ممالک مابین انتہائی سنگین سفارتی تنازع شروع ہو گیا ہے ۔ جبکہ اسرائیل نے برازیلی صدر کوناپسندیدہ شخص قرار دے دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان انتہائی سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا لولا ڈی سلوا نے غزہ پر اسرائیلی قبضے کے لئے ‘نسل کشی’ کا لفظ استعمال کیا اور اسرائیلی حکمت عملی کو نازی لیڈر ‘ہٹلر’ کے مشابہہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جو ہو رہا ہے وہ “جنگ نہیں نسل کشی ہے”۔اس کے جواب میں اسرائیل کے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے لولا ڈی سلوا کو “ناپسندیدہ شخصیت” اعلان کر دیا تھا۔برازیل کے صدارتی مشیر سیلسو آموریم نے جاری کردہ بیان میں لولا ڈی سلوا کے بارے میں اسرائیلی بیانات کو “فضول” قرار دیا ہے۔ برازیل میں اسرائیل کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا ہے
۔اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے بقول لولا ڈی سلوا نے سرخ لکیر پار کر لی ہے اور وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ لولا ڈی سلوا ریاست اسرائیل میں اس وقت تک ناپسندیدہ شخصیت ہیں جب تک کہ وہ اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹتے اور معافی نہیں مانگتے۔ کاٹز نے برازیل کے سفیر فریڈریکو میئر کو پیر کو مقبوضہ بیت المقدس میں یاد واشم ہولوکاسٹ میموریل سینٹر میں ملاقات کے لیے طلب کیا تھا۔ برازیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے اسی روز برازیل میں اسرائیلی سفیر ڈینیئل زونشین کو بھی ملاقات کے لیے طلب کیا تھا اور اسی دن شام کو فریڈریکو میئر کو مشاورت کے لیے تل ابیب سے واپس بلا لیا تھا۔
برازیل کے وزیر خارجہ مارو ویرا اور زونشین کے درمیان اس وقت سخت لیکن مناسب بات چیت ہوئی، جب ویرا نے مقبوضہ بیت المقدس میں میئر اور لولا ڈی سلوا کے ساتھ سلوک پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس میں فریڈریکو میئر کو عبرانی زبان میں بغیر کسی مترجم کے، یہ جانے بغیر کہ کیا کہا جا رہا ہے ایک بیان سننے پر مجبور کیا گیا۔تجربہ کار 78 سالہ لولا ڈی سلوا گلوبل ساتھ کی ایک نمایاں آواز ہیں اور ان کا ملک اس وقت جی 20 ممالک کا صدر ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برازیل بدھ اور جمعرات کو جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے





