اسلام آباد : پی ٹی آئی کے بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارٹی اس حکم کو چیلنج کرے گی۔ کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل میں آخری خنجرہے اگر ہمارا حصہ دوسری جماعتوں کو دیا جا رہا ہے تو یہ ایک آئینی غلطی ہے جس کا ارتکاب الیکشن کمیشن نے کیا ہے آج کے فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ انتخابی واچ ڈاگ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے بعد ازاں الیکشن کمیشن سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 (غداری) کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی نے اس حوالے سے ایک قرار داد تیار کر لی ہے جو جلد پیش کر دی جائے گی۔ آئندہ صدارتی اور سینیٹ کے انتخابات نامکمل ایوان میں نہیں کرائے جا سکتے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صدر، سینیٹرز، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر، وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کا انتخاب اسمبلیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔جب تک قومی اور صوبائی اسمبلیاں مکمل نہیں ہو جاتی، ان آئینی عہدوں کے لیے انتخابات نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک واضح نکتہ تھا جسے ہم نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا تھا ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی نے کہا کہ انتخابی نگران عوامی مینڈیٹ کی بے عزتی جاری رکھے ہوئے ہے اور آج کے فیصلے کو پاکستان میں جمہوریت اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے ایک کڑی ی قرار دیا۔متعصب الیکشن کمیشن نے واضح طور پر اپنے ہی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کی ہے۔





