پاکستان میں جمہوریت مخالفین کاعروج اور منڈلاتے سائے

0
6
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سُندر شعیب ایڈووکیٹ

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت کا سفر کبھی ہموار نہیں رہا۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی جمہوری اداروں کو مختلف ادوار میں بحرانوں، سیاسی کشمکش، غیر یقینی صورت حال اور طاقت کے مراکز کے باہمی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی ملک ایک ایسے سیاسی ماحول سے گزر رہا ہے جہاں جمہوریت کے مخالف رجحانات، سیاسی عدم برداشت، اداروں کے درمیان کشیدگی اور اقتدار کی جنگ نے جمہوری نظام کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کے گرد ایک بار پھر ایسے سائے منڈلا رہے ہیں جو سیاسی استحکام اور پارلیمانی نظام کے لیے خطرے کی علامت بن سکتے ہیں۔

جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی نظام ہے جس میں عوام کو اپنی رائے کے اظہار، نمائندوں کے انتخاب، حکومت کے احتساب اور پُرامن سیاسی سرگرمی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے مخالفین کو ختم کرنے کی سیاست اختیار کرلیں، احتجاج کو ریاستی تصادم میں تبدیل کردیا جائے اور ہر سیاسی بحران کا حل سڑکوں پر تلاش کیا جائے تو جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔پاکستان میں موجودہ سیاسی ماحول کا سب سے تشویش ناک پہلو سیاسی تقسیم کی شدت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات اب محض پالیسی یا سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت، نیت اور حق حکمرانی تک جا پہنچے ہیں۔ ایک فریق خود کو جمہوریت کا حقیقی نمائندہ قرار دیتا ہے

جبکہ دوسرا فریق اسے عوامی مینڈیٹ کا محافظ سمجھنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کشمکش میں پارلیمان، سیاسی مذاکرات اور آئینی اداروں کا کردار پس منظر میں چلا جاتا ہے اور سڑک کی سیاست مرکزی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔جمہوریت مخالف قوتوں کو ہمیشہ صرف سیاسی جماعتوں میں تلاش کرنا بھی درست نہیں۔ جمہوریت اس وقت کمزور ہوتی ہے جب معاشرے میں یہ سوچ مضبوط ہونے لگے کہ مسائل کا حل آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے بجائے کسی غیر معمولی اقدام میں ہے۔ اگر عوام، سیاسی کارکن، دانشور اور ریاستی ادارے یہ سمجھنے لگیں کہ منتخب حکومتوں کو مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے

یا سیاسی اختلاف کا فیصلہ طاقت کے ذریعے ہونا چاہیے تو اس سے جمہوری کلچر متاثر ہوتا ہے۔پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری اس حوالے سے سب سے زیادہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر جماعتیں اقتدار میں ہوں تو پارلیمانی نظام، آئین اور اداروں کی بالادستی کی بات کرتی ہیں، لیکن اقتدار سے باہر آتے ہی وہی جماعتیں نظام کے خلاف شدید احتجاج اور بعض اوقات غیر جمہوری راستوں کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی جماعت کو اپنی خواہش کے برخلاف فیصلہ قبول کرنا پڑے۔ اگر شکست یا اختلاف کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں تو جمہوری عمل محض انتخابات کا ایک سلسلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

سیاسی احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے، مگر احتجاج اور ریاستی نظام کو مفلوج کرنے میں فرق ہے۔ حکومت کے خلاف احتجاج، جلسہ، دھرنا اور ریلی سیاسی عمل کا حصہ ہیں، لیکن جب احتجاج تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان، شہری زندگی میں خلل یا ریاستی اداروں سے براہ راست تصادم کی شکل اختیار کرلے تو اس کے اثرات پورے جمہوری نظام پر پڑتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کا فرض ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو محض انتظامی یا قانونی مسئلہ نہ سمجھے بلکہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔جمہوریت کے گرد منڈلاتے سائے کا ایک سبب معاشی بے یقینی بھی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور عوامی مشکلات جب سیاسی عدم استحکام کے ساتھ مل جائیں تو عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے جمہوریت کی قدر اس وقت بڑھتی ہے جب اسے محسوس ہو کہ منتخب حکومت اس کی زندگی بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر سیاسی حکومتیں مسلسل اقتدار کی لڑائی میں مصروف رہیں اور عام آدمی کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں تو غیر جمہوری سوچ کو تقویت مل سکتی ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی سیاسی کشمکش کو نئی شدت دی ہے۔

اختلاف رائے اب چند اخبارات یا ٹی وی چینلز تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر شخص سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال جمہوریت کے لیے ایک موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔ آزاد اظہار رائے جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن جھوٹی خبریں، کردار کشی، نفرت انگیز مہمات اور سیاسی مخالفین کو دشمن قرار دینے کا رجحان معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ جب سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل جائے تو جمہوری مکالمہ ختم ہوجاتا ہے۔پاکستان کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ غیر جمہوری مداخلتوں نے وقتی طور پر سیاسی بحران تو ختم کیے، مگر طویل مدت میں ملک کو زیادہ پیچیدہ مسائل سے دوچار کیا۔ جمہوری نظام میں خامیاں ضرور ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی غلطیوں سے پاک نہیں، لیکن ان خامیوں کا علاج جمہوریت کا خاتمہ نہیں بلکہ جمہوری اداروں کی اصلاح، قانون کی بالادستی، شفاف انتخابات، مضبوط پارلیمان اور مؤثر احتساب ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں۔ حکومت کو اپوزیشن کے آئینی حق کا احترام کرنا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی حکومت کے آئینی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے اختلاف کو پارلیمانی حدود میں رکھنا چاہیے۔

سیاسی قیدیوں، مقدمات، احتجاج اور انتخابی تنازعات جیسے حساس معاملات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی روایت مضبوط ہونی چاہیے۔ اگر ہر سیاسی تنازع عدالت، سڑک یا طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو پارلیمان کی اہمیت مسلسل کم ہوتی جائے گی۔ریاستی اداروں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ جمہوریت صرف سیاست دانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئین سب کے لیے بنیادی دستاویز ہے اور اس کی بالادستی ہی سیاسی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اسی طرح عدلیہ کی آزادی، الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور میڈیا کی آزادی جمہوری نظام کے بنیادی ستون ہیں۔آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ہے۔ اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی جمہوریت میں ان کی ضرورت ختم ہوسکتی ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

حکومت اور اپوزیشن اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو اپنی شکست سمجھیں گے تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوگا۔پاکستان میں جمہوریت مخالفین کے عروج کا سب سے بڑا سبب جمہوریت کی اپنی کمزوریاں نہیں بلکہ جمہوری رویوں کی کمزوری ہے۔ جب سیاسی جماعتیں برداشت، مکالمے اور آئینی طریقہ کار کو مضبوط کریں گی تو جمہوریت کے خلاف سوچ خود کمزور ہوجائے گی۔ لیکن اگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہیں، عوامی مسائل نظر انداز ہوتے رہے اور ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹا جاتا رہا تو جمہوریت پر منڈلاتے سائے مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کسی ایک جماعت، حکومت یا اپوزیشن کے ہاتھ میں نہیں۔ یہ فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ ہم اختلاف کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

اگر اختلاف کو جمہوریت کا حسن سمجھا جائے، مخالف کو دشمن نہ بنایا جائے، آئین کو سب سے بالاتر رکھا جائے اور اقتدار کی تبدیلی کو معمول کا جمہوری عمل تسلیم کیا جائے تو یہ سائے چھٹ سکتے ہیں۔ لیکن اگر سیاست اقتدار کی جنگ، اداروں سے محاذ آرائی اور عدم برداشت کا شکار رہی تو جمہوریت کی عمارت کمزور ہوتی جائے گی۔یہ وقت کسی نئے تجربے کا نہیں بلکہ موجودہ جمہوری نظام کو بہتر بنانے کا ہے۔ پاکستان کو مضبوط حکومت سے زیادہ مضبوط نظام کی ضرورت ہے، ایسی پارلیمان کی ضرورت ہے جو واقعی قانون سازی اور قومی پالیسی کا مرکز ہو، ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو اقتدار اور اختلاف دونوں میں جمہوری اصولوں پر قائم رہیں اور ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اختلاف کے باوجود قومی مفاد مشترکہ منزل رہے۔ جمہوریت کے خلاف منڈلاتے سائے اسی وقت چھٹیں گے جب جمہوری قوتیں اپنے رویوں سے ثابت کریں گی کہ آئین، پارلیمان اور عوام کی بالادستی کسی بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا