تل ابیب : چینل 12 نے کسی ذرائع کا حوالہ دیے بغیر خبر دی ہے کہ اسرائیل نے شام اور اردن میں ایرانی ڈرونز کو روکنا شروع کر دیا ہے۔ایسا کرنے کی صلاحیت امریکہ کی جانب سے علاقائی اتحادیوں کے تعاون سے قائم کی گئی فضائی چھتری کی بدولت ہے۔دریں اثنا ایران کے وزیر دفاع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ ان میں سے جو بھی ڈرونز کو روکنے کے لیے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
اردن نے اسرائیل پر ایرانی حملے کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔اس سے قبل اردن نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود عارضی طور پر تمام آنے والے، روانہ ہونے والے اور ٹرانزٹ طیاروں کے لیے بند کر رہا ہے اور کہا ہے کہ صورتحال کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور پیش رفت کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔اردن کے سول ایوی ایشن ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین ہیثم مستو کا کہنا ہے کہ اردن کی فضائی ٹریفک میں مداخلت سے اردن کا جی پی ایس سسٹم متاثر ہوا جس کی وجہ سے علاقے میں موجود طیاروں کو متبادل نیویگیشن سسٹم استعمال کرنا پڑا۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون حملے کے بعد عراق نے اپنی فضائی حدود بند کرنے اور تمام فضائی آمدورفت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔عراق کے وزیر ٹرانسپورٹ رزاق السعداوی نے سرکاری خبر رساں ادارے آئی این اے کو بتایا کہ عراق کی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا ہے اور فضائی آمدورفت روک دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بندش مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 11 بجے سے صبح ساڑھے 5 بجے تک جاری رہے گی






