عوام پاکستان پارٹی کے پیچھے کون ہے؟

0
187

 یہ جماعت قومی سطح پر جاری ڈیبیٹ کا رخ موڑنے کی ایک کوشش ہے: ”اس جماعت کے رہنماؤں کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ روایتی موضوعات کی بجائے تعلیم، معیشت اور گورننس جیسے سنجیدہ ایشوز کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروانا چاہ رہے ہیں۔‘‘

 ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر اس پارٹی کو کوئی رول مل جائے لیکن ابھی اس پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق پر شبہات کا ہی اظہار ہو رہا ہے۔

سینئر صحافی کے مطابق  تنظیم سازی کے بغیر یہ عوام پاکستان پارٹی محض ایک تھنک ٹینک ہی ہے اور اسے ابھی حقیقی سیاسی جماعت بنانے کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوگی۔

عوام پاکستان پارٹی نے ایک 30 رکنی تنظیمی کمیٹی کے ذریعے ایک سال میں پارٹی کی ضلعی سطح پر تنظیم نو کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ عوام پاکستان پارٹی ایک ایسے پارکنگ سٹینڈ کی طرح بھی بن سکتی ہیں جہاں پر الیکٹیبلز اور ناراض سیاسی رہنماؤں کو پارک کر کے اگلے انتخاب کے بعد پارلیمنٹ میں ایک ایسا گروپ وجود میں لایا جا سکے جو سیاسی حکومت پر ”مقتدر حلقوں‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے دباؤ کے لیے استعمال ہو۔

اگرچہ اس پارٹی کے کنوینر، سابق وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے سابق رہنما شاہد خاقان عباسی اپنی پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق کی بار بار تردید کر چکے ہیں لیکن یہ سوال اب بھی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

 عوام پاکستان پارٹی کا ظہور غیب سے ہوا ہے اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آسمان سے گرنے والی یہ جماعت کس کھجور میں اٹکے گی۔  پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان، عوام اور استحکام جیسے الفاظ غیر سیاسی لوگوں کے ذہنوں میں رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کا تعلق بھی استحکام پاکستان پارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے قبیلے سے ہی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایک ایسے ماحول میں جب ملک کی سب سے بڑی جماعت کو صرف ایک جلسہ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، نئی جماعت کا کھلم کھلا پورے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے سب کچھ بدل دینے کے دعوے کرنے پر بھی کسی کی کان پر جوں تک نہ رینگنا حیرت کا باعث ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا