پاکستان میں چھاتی کے سرطان سے11فیصدعورتوں کی موت واقع ہوتی ہے ڈاکٹرالطاف

0
467

ملتان(نیوزڈیسک)چھاتی کاسرطان ایک انتہائی خطرناک اورجان لیوا مرض ہے جس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ پاکستان میں ہر 9میں سے ایک خاتون اس مرض کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کااظہاروائس چانسلر نشترمیڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹررانا الطاف نے کینسر سوسائٹی ملتان کے زیراہتمام نشترہسپتال میں منعقدہ بریسٹ کینسر آگاہی واک سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وائس چانسلر نے مزید کہاکہ آگاہی مہم کے ذریعے خواتین کو اس مرض کی تشخیص کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور ان میں یہ احساس پیداکرنا بھی بے حد ضروری ہے کہ اگران کو اس مرض کی کوئی علامت محسوس ہوتو بلاجھجھک فورا کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ زندگی بہت پیاری چیز ہے جس کو شرم وڈر کی وجہ سیبرباد نہیں کیاجاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ بروقت تشخیص سے ہی اس کاعلاج ممکن ہے۔واک سے خطاب کرتے ہوئے کینسر سوسائٹی ملتان کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود نے کہاکہ پاکستان میں اس کینسر کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے جو ایک الارمنگ صورتحال ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہمارے ملک میں ہر روز تقریبا109خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ چلی جاتی ہیں جبکہ سالانہ یہ تعداد 40ہزار سے زائد ہے جوایک سنگین نوعیت کا معاملہ ہے۔

ڈاکٹر اعجاز مسعود نے کہاکہ یہ مرض عام طورپر 50سے60سال برس کی خواتین میں پایاجاتا ہے لیکن اب کم عمرخواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بریسٹ کینسر کے حوالیسے ہرعورت کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ کس حد تک خطرناک ہے اور اسے سے کیسے بچا جاسکتا ہے اورکیسے اس کی تشخیص کرکے جلد سے جلد اس کا علاج ممکن بنایاجاسکتا ہے۔

بعدازاں وائس چانسلر نشتریونیورسٹی ڈاکٹر راناالطاف کی قیادت میں آگاہی واک ہوئی جس میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا