عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو حماس کے ساتھ جزوی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چینل 12 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اگر حماس جزوی معاہدے پر راضی ہو جائے تو “ریڈ لائن اچانک تبدیل ہو سکتی ہے۔”
چینل 13 کے مطابق نیتن یاہو مرحلہ وار معاہدے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہیں، جبکہ قطر اور مصر اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس فی الحال “موثر مذاکراتی ذہنیت” میں نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک جامع معاہدے کا خواہاں ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی شامل ہو۔ سلامتی کابینہ میں سب سے بڑی مخالفت اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر کی جانب سے سامنے آئی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے معاہدے کی شرائط پر ضمانت چاہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگر جزوی معاہدہ طے پا جائے تو اسرائیل تقریباً 60 روزہ جنگ بندی پر راضی ہو سکتا ہے، جس کے دوران وہ اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرے گا۔





