یرغمالیوں کے حق میں اسرائیلیوں کی ہڑتال اور احتجاج ،صدر آئزک ہرزوگ کا خطاب

0
256

اتوار کی صبح اسرائیل بھر میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہزاروں مظاہرین درجنوں مقامات پر جمع ہوئے اور سڑکوں کو بلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق دوپہر تک 30 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جن میں تل ابیب سے 11 شامل ہیں۔ یروشلم کے قریب پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے ان مظاہرین کو منتشر کیا جو سرنگ کے اندر زمین پر بیٹھ گئے تھے۔ مختلف شاہراہیں جیسے روٹ 1، ایالون ہائی وے اور شمالی و وسطی اسرائیل کی بڑی سڑکیں بھی عارضی طور پر بند رہیں۔

مظاہرین نے وزراء کے گھروں کے باہر بھی ریلیاں نکالیں، جن میں وزیر انصاف یاریو لیون، وزیر اقتصادیات نیر برکت، وزیر تعلیم یواو کیش اور دیگر شامل تھے۔ شرکاء کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائے۔

صدر آئزک ہرزوگ نے تل ابیب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورا اسرائیل متحد ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہمارے بھائی اور بہنیں جلد از جلد وطن واپس آئیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یرغمالیوں کو بھلایا نہیں گیا اور ان کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ہرزوگ نے انگریزی میں بات کرتے ہوئے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ حماس پر دباؤ بڑھائے تاکہ یہ بحران جلد ختم ہو سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا