لاہور ہائیکورٹ کی سیف سٹی پر بڑا فیصلہ، کیمرے فوری فعال کرنے کی ہدایت

0
120

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ صوبے بھر میں سیف سٹی کے تمام کیمرے فوری طور پر فعال کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں کے دوران فائبر آپٹک کیبلز کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد کریں۔

عدالت نے واضح کیا کہ سیف سٹی اتھارٹی کسی فرد کو فوٹیجز فراہم کرنے کی مجاز نہیں، صرف تفتیشی ادارے، عدالت یا متعلقہ اتھارٹی کے لیے فوٹیجز دستیاب ہوں گی۔ کیس میں درخواست گزار نے پولیس کے غیر قانونی رویے کے خلاف فوٹیجز طلب کی تھیں، لیکن عدالت نے فیصلہ سنایا کہ فوٹیجز کا حق محدود ہے اور قومی سلامتی یا قانونی حدود کے تحت نجی افراد کو فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور چیئرپرسن سیف سٹی اتھارٹی کمشنر لاہور کو فوکل پرسن مقرر کیا تھا تاکہ ترقیاتی کاموں میں کیبلز کے نقصان کو روکا جا سکے، لیکن اس کے باوجود احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ فوٹیجز کے حصول کی درخواست وقوعہ کے دو ماہ بعد دی گئی، اس دوران ریکارڈ ضائع ہو گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا